ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کے گرد گھیرا تنگ۔۔۔ عمران خان کی اہم ترین ملاقات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پانامہ لیکس کیس کے سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہونے کےبعد وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے عدالت میں سخت ترین ٹی او آرز جمع کروائے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی جانب سے کسی بھی آف شور کمپنی کی ملکیت سے انکار کیا گیا دوسری جانب کیپٹن صفدر کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بھی مریم نواز کے کسی آف شور کمپنی کی مالکہ ہونے سے انکار کیا گیا ہے ۔ جبکہ سپریم کورٹ میںروزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی سماعت میں کارروائی بھی تیزی سے جاری ہے ۔ اس سلسلے میں عمران خان نے سینئر قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کی ہے اورکیس کے قانونی معاملات پر مشاورت کی ہے۔
عمران خان نے ملاقات میں کہا پانامہ لیکس کےمعاملے پر شریف فیملی کےبیانات بھی ریکارڈ پر ہیں اور ان کی فیملی کا اعتراف جرم ہی ان کے خلاف سب سے بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عدالتوں سے انصاف کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف عدالتوں پر اعتماد ہی نہیں بلکہ ان کا دلی احترام بھی کرتے ہیں ۔ جبکہ ملاقات میں ڈاکٹر بابر اعوان نے پانامہ لیکس اور سیکیورٹی لیکس معاملات پر عمران خان کو اہم تفصیلات اور نقاط سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر قانونی اور آئینی پہلوؤں سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا گیا ۔ عمران خان نے پانامہ لیکس معاملے کے متعلق کیس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی کے بیانات ریکارڈ پر ہیں اور یہی بیانات ان کے خلاف سب سےبڑا ثبوت ہیں ۔
عمران خان نے کہا کہ انہیں ان عدالتوں سے انصاف کی بہت امید ہے وہ ان عدالتوں کا دل سے احترام کرتے ہیں ۔ بابر اعوان نے کہا کہ بالغ بچوں کی جانب سے عدالت میں وکالت نامے جمع کروانے میں تین ہفتے لگ گئے ہیں یہ بھی ان خلاف ایک بہت بڑا نقطہ ہے ، احتساب کے بغیر قانون اور پارلیمنٹ و انصاف کا تصور کرنا ، ناممکن ہے ۔ بابر اعوان نے بھی اس موقع پر عمران خان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ معاملات پر نواز شریف کے بچوں کے اپنے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جو اس کیس میں ان کے خلاف سب سے بڑا ثبوت بھی ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…