ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کیپٹن (ر) صفدر کے کھرے انکار نے نواز شریف کو بڑی مشکلات میں پھنسا دیا، اب کیا ہوگا؟ سینئر صحافی کے اہم انکشافات!!!‎

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کیپٹن صفد ر کی جانب سے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے جمع کروائے گئے جواب نے وزیر اعظم کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سینئر صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ کیپٹن صفدر کی جانب سے مریم نواز کے کسی بھی کمپنی کا مالک نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کو ثابت کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
کیپٹن (ر)صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں آج مریم نواز شریف کے حوالے سے جواب جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مریم نوازشریف کی ملکیت میں کوئی کمپنی نہیں ہے اس جواب میں کیپٹن صفدر کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی جانب سے دائر کردہ اس ضمن میں درخواستوں کو خارج کیا جائے۔ اس تمام تر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عمر چیمہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دونوں بیٹے حسین اور حسن نواز ملک سے باہر ہیں اور ان کا زیادہ تر کاروبارہ بھی ملک سے باہر ہے لہذا قانون کے تحت انہیں جواب جمع کروانے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ بیرون ملک 180 روز سے زیادہ رہنے والے پاکستانیوں کو 2 سال تک ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی چھوٹ حاصل ہو جاتی ہے جبکہ ان دونوں بھائیوں کا زیادہ تر کاروبار پاکستان سے باہر ہے اور وہ اپنی کمپنیوں کو وہیں پر چلا رہے ہیں ۔ اس لئے انہیں اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں۔ لیکن اس کے برعکس میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف پاکستان میں ہی رہتی ہیں اور پانامہ پیپرز کے مطابق 2 کمپنیاں ان کے نام پر ہیں۔ان دونوں کمپنیوں کی ملکیت سے انکار کرنے کی صورت میں وزیراعظم اور ان کےخاندان کے لئے مشکلات میں بے حد اضافہ ہو جائے گا۔ کیپٹن صفدر کی جانب سے مریم کی ملکیت میں کسی بھی کمپنی کے نہ ہونے کا اعلان کرنا اور تحریری طور پر اس بات کو سپریم کورٹ میں جمع کروانا ان کے لئے بہت مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سینئر صحافی عمر چیمہ نے مزید کہا وزیر اعظم کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی ملکیت میں کوئی بھی آف شور کمپنی نہیں ہے جبکہ اب کہا گیا ہے کہ مریم نواز شریف کی بھی کوئی کمپنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں یہ بھی سامنے آجائے گا کہ کیا ان سب باتوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ مگر فی الحال اس دعوے کو ثابت کرنا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔اس موقع پر عمر چیمہ نے کہا کہ میرے خیال میں اس دعوے کو ثابت کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔

Umar Cheema Comments on Captain Safdar by dailypakistan



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…