جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

دو اہم کمانڈروں سمیت درجنو ں افراد نے ہتھیار ڈال دیئے, پاک افواج کے حق میں بڑا اعلان بھی کر دیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2016 |

سبی(این این آئی )بلوچ ریپبلکن آرمی کے دو کمانڈروں سمیت 43فراریوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارئے میں شامل ہو گئے،براہمداغ بگٹی نے ہمیں آزادی کے نام پر اپنی فورسز کے خلاف اکسایا تھا،بھارت سے سیاسی پناہ مانگنے والے غیر ملکی ایجنٹ ہیں،ہتھیار ڈالنے کے بعد ہم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑئے ہیں فراری کمانڈر قیصر خان بگٹی ،لعل خان بگٹی،ہتھیار ڈال کر قومی دھارئے میں شامل ہونے والوں تنہاء نہیں چھوڑیں گے میر دوستین خان ڈومکی،تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے کمانڈر قیصر خان بگٹی اور لعل خان بگٹی نے اپنے43فراری ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کرقومی دھارئے میں شامل ہونے کا اعلان ایف سی ہیڈ کوارٹڑ میں منعقدہ تقریب میں کیا،تقریب میں رکن قومی اسمبلی میر دوستین خان ڈومکی،سیکٹر کمانڈر ایف سی برگیڈئر امجد علی،کمانڈنٹ ایف سی کرنل ذوالفقار باجواہ،ڈپٹی کمشنر سبی سیف اللہ کھیتران،ڈپٹی کمشنر کچھی علی اعجاز،سینئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس سردار حسن موسیٰ خیل ،ڈسٹرکٹ چیئرمین ملک قائم الدین دہپال ،میونسپل چیئرمین حاجی داؤد رند سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شرکت کی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی میر دوستین ڈومکی نے کہا کہ کہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارئے میں شامل ہونے والوں کو حکومت تنہاء نہیں چھوڑئے گی اور ان کے تحفظ سمیت ان کے بچوں کو صحت و تعلیم ،پینے کے صاف پانی اور روزگار فراہم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی نے بھارت سے سیاسی پناہ مانگ کریہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بلوچستان اور پاکستان کے عوام کا خیر خواہ نہیں ہے بلکہ براہمداغ بگٹی بگٹی نہیں براہمدغ مودی ہے جسے بلوچستان کے عوام مسترد کرتے ہیں اور نام نہاد آزادی کی تحریک کے نام پر معصوم بلوچوں کو گمراہ کر کے انہیں پاک افواج اور فورسز کے خلاف اکسیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ خوشحال بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے جس کے لیے موجودہ حکومت عسکری قیادت کے ساتھ ملکر ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکٹر کمانڈر ایف سی برگیڈئر امجد علی ،کمانڈنٹ ایف سی ذوالفقار علی باجواہ نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے بگٹی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جو ماضی میں چھتر اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور قومی تنصیبات کو نشانہ بناتے تھے لیکن براہمداغ بگٹی کی حقیقت عیاں ہونے کے بعد غیور بلوچ قبائل نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال کر قومی دھارئے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب ہتھیار ڈالنے والوں کے گھروں پر براہمداغ بگٹی کے دہشت گردوں نے حملہ کرکے ان کی بچوں اور خواتین پر تشدد کیا جبکہ ان کی مال مویشی بھی لوٹ کر چلے گئے تھے لیکن سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے خلاف گھیرا تنگ کردیا اور فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ ان کے قبضہ سے مال مویشی بھی واگزار کرائے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ قومی دھارئے میں شامل ہونے والوں کے جان و مال کے تحفظ کو سیکورٹی فورسز ہر صورت یقینی بنائے گی جبکہ ان کے معیار زندگی کو بلند بنانے کے لیے بھی عملی طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…