جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

نجی چینل کی خاتون اینکر کو تھپڑ مارنے کا معاملہ !کس نے نوٹس لے لیا بڑی خبر آگئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی) وزیرِ اعلی سندھ کی معاون خصوصی برائے محکمہ ترقی نسواں ارم خالد نے نجی نیوز چینل کی اینکر کو ایف سی اہلکار کی جانب سے تھپڑ مارنے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اینکر صائمہ کنول سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور متعلقہ اداروں کوواقعہ کی مکمل کاروائی کے بعد رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیاہے- ارم خالد نے کہا کہ معاملہ کتنا ہی سنگین کیوں نا ہو کسی کو بھی عورت پر تشدد کی اجازت نہیں ۔مکمل تحقیق کے بعد ہی معاملہ کی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے- ارم خالد نے محکمہ ترقی نسواں سندھ کی جانب سے اینکر صایمہ کنول کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروای۔
یاد رہے کہ اس سے قبل خاتون اینکر کو تھپڑ مارنے پر لیاقت آباد نادرا آفس کے سکیورٹی گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق نادرا عملے اور سکیورٹی گارڈ نے لیاقت آباد نادرا آفس میں کوریج کے دوران نجی چینل کی خاتون صحافی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ سکیورٹی گارڈ نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی ۔پولیس کے مطابق لیاقت آباد نمبر 4میں واقع نادرا آفس میں گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کی خاتون اینکر جب شہریوں سے نادرا آفس میں درپیش مسائل معلوم کررہی تھیں تو وہاں موجود سکیورٹی گارڈ نے ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور دھکے دیتے ہوئے ہراساں کرنے کی کوشش کی ۔پولیس حکام نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد واقعہ کا مقدمہ نادرا آفس کے گارڈ سید حسن عباس کے خلاف تھانہ گلبہار میں درج کرلیا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…