جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نفسیاتی مریض بن چکی ہے پانامہ پیپرز پر کارروائی میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ سینئیر صحافی کے دھواں دار انکشافات

datetime 11  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے ہے کہ حکومت اور ترجمانوں کی حالت اس وقت نفسیاتی مریض کی سی ہو گئی ہے جو بھی ان سے بات کرتا ہے اس کے ساتھ یہ لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور اس پر ملک دشمن اور جمہوریت دشمن کا الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق  حامد میر نے ان خیالا ت کا اظہار نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کا معاملہ اپریل کے آغاز میںمنظر عام پر آیا ، حکومت نے اس وقت کے بعد سے وقت گزارنے کے سوا کچھ نہیں کیا اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت صرف اس معاملے پر وقت لینا چاہتی ہے اور وہ کچھ بھی کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے حکومت صرف وقت گزار رہی ہے، اسی لیے یہ تاثر مل رہا ہے کہ دال میں واقعی کچھ کالا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے رویے کو دیکھتے ہوئے  یہ لگتا ہے کہ حکومت کی داڑھی میں تنکا ہے اور وہ صرف وقت بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ترجمانوں کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں ہے جب ان سے کوئی صحافی یا اینکر پرسن کوئی سوال کرتا ہے یابحث کی کوشش کرتا ہے تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے، لڑنا شروع کر دیتے ہیں، آنکھیں اوپر چڑھ جاتی ہیں، ہونٹ کپکپانا شروع کر دیتے ہیں ، ماتھے پر تیوریاں پڑھ جاتی ہیں، وہ اونچی اونچی آواز میں چیخنا شروع کر دیتی ہیں، وہ نفسیاتی مریض آپ سے گفتگو کر رہا ہے، چھوٹی چھوٹی بات پر لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔  حکومت کی صورتحال ایک نفسیاتی مریض کی سی ہو گئی ہے، اور آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ جمہوریت کےدشمن ہیں، آپ مشرف کے ساتھی ہیں، حالانکہ مشرف کے ساتھی اس وقت نواز شریف کے اردگرد نظر آتے ہیں۔

مشرف کے دور میں جو مشرف حکومت پر تنقید کرتا تھا اسے کہا جاتا تھا کہ یہ پاکستان کا دشمن ہے آجکل نواز شریف پر تنقید کرنےو الے کو مارشل لاء کا حامی اور جمہوریت کا دشمن کہا جاتا ہے ۔ اور جمہوریت کی آڑ میں یہ کرپشن کو چھپا رہے ہیں اور وقت گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی وجہ سے رائے عامہ ان کے خلاف تبدیل ہو رہی ہے ۔ ان کو چاہئے کہ اگر ان کا دامن صاف ہے تو سیدھے سیدھے طریقے سے اپنےروے میں لچک پیدا کرنی چاہئے اور حکومت میں ہونے اور بڑا پن دکھانے کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کے مطالبات پر انکوائری کروانی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…