بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

حکومت قانون میں ترامیم کیوں چاہتی ہے؟ ترامیم کس سے اور کیوں خفیہ رکھی گئیں‘ اہم انکشاف

datetime 18  اگست‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ شریف برادران نے استغاثہ کی سماعت کاقانونی اختیار ججز سے چھین کر پولیس کو دینے کیلئے ضابطہ فوجداری قانون میں ترمیم کا تیار کیا گیا ڈرافٹ تیار کر کے اسلام آباد بھجوا دیا ہے جسے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے منظور کروایا جائیگا ،یہ ترمیم قصاص سے بچنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری سماعت کو رکوانے کیلئے کی جارہی ہے،پولیس اور حکومت کے ظلم کا شکار مظلوم شہریوں سے عدالت سے انصاف مانگنے کا حق ختم کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں اور کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک پر لاگو کیے جانے والے اس نئے ترمیمی قانون پر سندھ، خیبرپختونخوا ،بلوچستان کی اسمبلیوں اور وکلاء کو لا علم رکھاجارہا ہے۔صوبائی حکومتیں ،سیاسی جماعتیں اور وکلاء انصاف کے اس قتل عام کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بنتے ہیں افراد کے تحفظ کیلئے نہیں مگر دھن ،دھونس اور دھاندلی کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے قاتل حکمران اپنے تحفظ کیلئے قوانین بدل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم لانے کا یہ ڈارفٹ پنجاب اور وفاق کی حکومت نے مل کر تیار کیا ہے جس کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قصاص سے بچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روزقبل اس قسم کی قانون سازی پر غور و خوض کیے جانے سے متعلق پریس کانفرنس کر کے نشاندہی کی تھی جس کی حکمرانوں کو تردید کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اب اس ترمیم کو عملی شکل دینے کیلئے منصوبہ کے بارے قوم کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کا کسی بھی پرائیویٹ کمپلینٹ کی سماعت کا اختیار ختم ہو جائیگا اور پولیس اور حکمرانوں کے ظلم کا شکار کوئی بھی شہری جب عدالت سے رجوع کریگا تو پراسیکیوٹر ز کی طرف سے شکایت کنندہ کے متعلق اختلافی نوٹ دئیے جانے کی صورت میں جج کا سماعت کا قانونی اختیار ختم ہو جائیگااور کیس دوبارہ اسی ضلع کی پولیس کے پاس چلاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کا حق بھی حکومت کے پاس ہے اوراب پولیس کی زیادتی کے خلاف شہری براہ راست عدالت سے رجوع نہیں کر سکے گا یہ انصاف کے مسلمہ اصولوں اور قوانین کے خلاف ہے اور اس طرز عمل سے سیاسی مخالفین کیلئے انصاف حاصل کرنا دور کی بات سانس لینا بھی دوبھر ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور مفاد عامہ کیخلاف قانون سازی ہے ،جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔اس ترمیم کے بارے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور جمہوری حکومتیں عوام کو بلاتاخیر انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کرتی ہیں مگر موجودہ قاتل اور کرپٹ حکمران صرف اپنے آپ کو بچانے کیلئے قانون بدل رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…