لاہور ( این این آئی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ شریف برادران نے استغاثہ کی سماعت کاقانونی اختیار ججز سے چھین کر پولیس کو دینے کیلئے ضابطہ فوجداری قانون میں ترمیم کا تیار کیا گیا ڈرافٹ تیار کر کے اسلام آباد بھجوا دیا ہے جسے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے منظور کروایا جائیگا ،یہ ترمیم قصاص سے بچنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری سماعت کو رکوانے کیلئے کی جارہی ہے،پولیس اور حکومت کے ظلم کا شکار مظلوم شہریوں سے عدالت سے انصاف مانگنے کا حق ختم کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں اور کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک پر لاگو کیے جانے والے اس نئے ترمیمی قانون پر سندھ، خیبرپختونخوا ،بلوچستان کی اسمبلیوں اور وکلاء کو لا علم رکھاجارہا ہے۔صوبائی حکومتیں ،سیاسی جماعتیں اور وکلاء انصاف کے اس قتل عام کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بنتے ہیں افراد کے تحفظ کیلئے نہیں مگر دھن ،دھونس اور دھاندلی کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے قاتل حکمران اپنے تحفظ کیلئے قوانین بدل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم لانے کا یہ ڈارفٹ پنجاب اور وفاق کی حکومت نے مل کر تیار کیا ہے جس کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قصاص سے بچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روزقبل اس قسم کی قانون سازی پر غور و خوض کیے جانے سے متعلق پریس کانفرنس کر کے نشاندہی کی تھی جس کی حکمرانوں کو تردید کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اب اس ترمیم کو عملی شکل دینے کیلئے منصوبہ کے بارے قوم کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کا کسی بھی پرائیویٹ کمپلینٹ کی سماعت کا اختیار ختم ہو جائیگا اور پولیس اور حکمرانوں کے ظلم کا شکار کوئی بھی شہری جب عدالت سے رجوع کریگا تو پراسیکیوٹر ز کی طرف سے شکایت کنندہ کے متعلق اختلافی نوٹ دئیے جانے کی صورت میں جج کا سماعت کا قانونی اختیار ختم ہو جائیگااور کیس دوبارہ اسی ضلع کی پولیس کے پاس چلاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کا حق بھی حکومت کے پاس ہے اوراب پولیس کی زیادتی کے خلاف شہری براہ راست عدالت سے رجوع نہیں کر سکے گا یہ انصاف کے مسلمہ اصولوں اور قوانین کے خلاف ہے اور اس طرز عمل سے سیاسی مخالفین کیلئے انصاف حاصل کرنا دور کی بات سانس لینا بھی دوبھر ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور مفاد عامہ کیخلاف قانون سازی ہے ،جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔اس ترمیم کے بارے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور جمہوری حکومتیں عوام کو بلاتاخیر انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کرتی ہیں مگر موجودہ قاتل اور کرپٹ حکمران صرف اپنے آپ کو بچانے کیلئے قانون بدل رہے ہیں ۔
حکومت قانون میں ترامیم کیوں چاہتی ہے؟ ترامیم کس سے اور کیوں خفیہ رکھی گئیں‘ اہم انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































