جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

یورپی یونین کی طرز پر پاکستان سمیت 5ممالک پر مشتمل یونین کے قیام کی تجویز

datetime 15  اگست‬‮  2016 |

کوئٹہ( این این آئی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر غلام احمد بلور نے یورپی یونین کی طرز پر پاکستان ،ایران،افغانستان،بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل یونین کے قیام کی تجویز پیش کرتے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں بات کی مگر کبھی ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا بلکہ ہمیشہ غدار قرار دیاگیا ،آج ہمیں جن حالات کا ہمیں سامنا ہے وہ مارشل لاء کی وجہ سے ہے سانحہ کوئٹہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی مذمت کیلئے میرے پاس الفاط نہیں ،اب تعزیت اور فاتحہ خوانی سے بڑھ کر اقدامات کرنا ہونگے، ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو اے این پی کے ایک وفد کے ہمراہ سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیوالے صحافیوں شہزاد خان اور محمود خان کے روح کے ایصال ثواب کیلئے کوئٹہ پریس کلب میں فاتحہ خوانی کے موقع پر کیاوفد میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین افراسیاب خٹک سینیٹر باز محمد خان ایمل ولی خان ذاکر خان سینیٹر داؤد خان حاجی نظام الدین سمیت دیگر مرکزی وصوبائی رہنما شامل تھے ،جبکہ اس موقع پرکوئٹہ پریس کلب کے شہزادہ ذوالفقار،جنرل سیکرٹری خلیل احمد سمیت صحافیوں کی بڑ ی تعداد موجود تھی،غلام احمد بلور نے سانحہ کوئٹہ کو انتہائی دلخراش اور المناک قرا دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں اس سانحہ کی مذمت کرسکوں ہم خیبر پختونخوا میں اس صورتحال کا طویل عرصہ سے سامنا کرتے آئے ہیں صرف ہماری پارٹی کے 800سے زائد رہنما اور کارکن شہید ہوئے میں نے اپنے بھائی اور میاں افتخار حسین نے اپنے اکلوتے بیٹے کا جنازہ اٹھایا ہے اسفند یار ولی خان اور مجھ سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے ہوئے بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مرتے بھی ہیں لیکن ہماری قربانی کو کبھی نہیں ماناگیا ہمارے مرنے پر صرف تعزیت ہوتی ہے ہمارے ملک میں ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جو کارکردگیہونی چاہیے وہ نہیں ہے اگر سول ہسپتال کوئٹہ میں سیکورٹی کے موثر اقدامات ہوتے تو یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اور نہ ہی اتنے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین جو خود یہاں نہیں آئے بلکہ ان کو لایاگیا انکی جگہ جگہ بے عزتی کی جارہی ہے کیونکہ وہ پشتون ہیں بار بار جمہوری حکومتوں کو ختم کرکے مارشل لاء لگایاگیاآج ہم جو کچھ بھگت رہیہیں وہ مارشل لاء کی وجہ سے ہے اگر مفاد پرست حکمران ملک کے بارے میں سوچتے تو آج اس کی یہ حالت نہ ہوتی اس وقت ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے ہم نے مل بیٹھ کر یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس صورتحال سے کس طرح نکل سکتے ہیں۔



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…