لاہور( این این آئی) چھ دہائیوں تک انسانیت کی خدمت کرنے والے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبد الستار ایدھی 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات میں میں پیدا ہوئے ۔ بچپن میں والدہ کی بیماری اور انکی تیمارداری نے انہیں دکھی انسانیت کی طرف مائل کیا ۔ والدہ کے انتقال کے بعد انکے اندر انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور پختہ ہوتا گیا 1947ء میں بھارت سے ہجرت کر کے کراچی آنے کے بعد انہوں نے سماجی خدمات کا باقاعدہ آغاز کیا اور اسکے اعتراف میں انہیں عطیات ملنا شروع ہوئے ۔ جسکے ذریعے انہوں نے اپنے مشن کو وسعت دی ۔ عبد الستار ایدھی کا قائم کیا ہوا ادارہ ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان میں سب سے بڑا فلاحی ادارہ ہے۔ ایدھی ہومز کے نام سے قائم مراکز ہزاروں گمشدہ اور گھروں سے بھاگے ہوئے بچوں کے گھر ہیں ۔ ان مراکز میں انہیں رہائش ، خوراک ، تعلیم اور تفریح کی تمام سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ عبد الستار ایدھی نے نشے کے عادی اور ذہنی طور پر غیر صحتمند افراد کی بحالی کے لئے بھی مراکز قائم کئے ۔ جہاں انہیں مکمل رہائش کے ساتھ علاج معالجے کی سہولیات بھی دی جاتی ہیں ۔ عبد الستار ایدھی نے اپنا گھر کے نام سے ایسے مراکز قائم کئے جہاں پر معاشرے کی ستم ظریفی اور صاحب ثروت اولادوں کی نا فرمانی اور لا تعلقی کا شکار عمر رسیدہ والدین اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے معصوم اورنو مولود بچوں کو پیدا ہوئے کچرے کے ڈھیروں پر پھینک دیتے تھے جن کے لئے ایدھی ہومز کے باہر ان نو مولود بچوں کے لئے جھولے رکھوائے گئے اور اپیل کی گئی کہ بچوں کو کچرے کر ڈھیر پر پھینکنے کی بجائے اس جھولے میں ڈال جائیں ۔ ملک میں امن و امان کی کسی بھی طرح کی صورتحال میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز سب سے پہلے پہنچتیں، قدرتی آفات میں دکھی افراد میں راشن کی تقسیم اور انہیں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی ایدھی فاؤنڈیشن بھر چڑھ کر حصہ لیتی ہے ۔عبد الستار ایدھی لا وارث میتوں کے وارث بنے او رانکے کفن دفن کے اخراجات اٹھائے اور نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں سپرد یا اور اب تک ہزاروں لا وارث لاشوں کی تدفین کی گئی ہے ۔ ایدھی شیلٹر ہومز میں ہزاروں بے سہارا اور پناہ کی متلاشی عورتوں کو پناہ فراہم کی ۔ دور افتادہ علاقوں میں رسائی کے لئے ایک ہیلی کاپٹر اور دو جہاز ائیر ایمبولینس کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ ملک میں زلزلہ ہو یا سیلاب ، قحط سالی ہو یا طوفان عبد الستار ہر جگہ مدد کے لئے پہنچے ۔ انہوں نے افریقہ کی قحط سالی اور غزہ کے محصورین کے لئے بھی ، امریکہ میں طوفان ہو یا انڈونیشیاء میں سونامی عبد الستار ایدھی رنگ و نسل کی تفریق کے ہر جگہ پہنچے ۔ عبد الستار ایدھی نے کئی مقامات پر لنگر خانے میں بنائے جہاں پر مزدور اور بے روزگار افراد کو کھانا مہیا کیا جا تاہے ۔
عبدالستارایدھی دکھی انسانیت کی خدمات کی جانب کیسے راغب ہوئے؟ عظیم رہنما کی عظیم داستان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
پاکستان کی معروف ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے بارے بڑی پیشگوئی کر دی
-
وزیراعظم کا سرکاری ملازمین کے لیے بڑا اعلان
-
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں ، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا...
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
وزیراعظم نے عید الفطر کی تعطیلات کی منظوری دے دی
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
سعودی عرب میں جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
معروف سٹیج اداکارہ دیدار کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا



















































