منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

میں شیروانی سلوا دیتا ہوں اور۔۔! حمزہ شہباز عمران خان پر تنقید میں بہت آگے نکل گئے

datetime 3  جولائی  2016 |

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے لئے لوگوں کے دل جیتنا پڑتے ہیں،عمران خان چور دروازے سے اقتدار کا راستہ تلاش کران چھوڑ دیں، اگر وزیر اعظم بننے کا شوق ہے تو میں شیروانی سلوا دیتا ہوں ہم آپ کو وزیر اعظم کہنا شروع کر دیتے ہیں ،نواز شریف اور شہباز شریف کو اب عہدوں کی ضرورت نہیں ،ملک کی خدمت کا عزم لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندس فاؤنڈیشن کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کیا ۔ حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان صرف وعدوں سے نہیں چل سکتا ،ملک کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کرناہوتے ہیں جو (ن) لیگ کر رہی ہے ۔ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے لیکن کچھ لوگ اس کی آڑ لینا چاہتے ہیں ۔ احتجاج کرنے والے خود آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ سوئٹرز لینڈ کے اکاؤنٹس کے یاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا۔جسکے دل میں چور ہو وہ خود کو احتساب کیلئے پیش نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہدھرنے میں قوم کے 126دن ضائع کئے گئے اب ترقی کے سفر میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ا قتصادی راہداری پر رخنہ ڈالنے والے پاکستان کے دوست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے ، ملک میں امن و امان قائم ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو وزیر اعظم بننے کا شوق ہے تو شیروانی میں سلوا دیتا ہوں۔ ہم آپ کو وزیر اعظم کہنا شروع کر دیتے ہیں ۔عمران خان چور دروازے سے اقتدار کا راستہ تلاش کرنا چھوڑ دیں ۔ وزیراعظم بننے کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اب عہدوں کی ضرورت نہیں ۔ اب ہم ملک کی خدمت کا عزم لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور قوم دیکھ رہی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں ملک کو ترقی کے سفر پر ڈالنے اور اسکی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…