منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ محمود قریشی نے حکومت وہ بات پوچھ کر قصہ ہی ختم کر دیا

datetime 1  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب کوئی ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کرے تو اس کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے ، الیکشن کمیشن مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات سمیت کئی کام رکے ہوئے ہیں ، پانامہ لیکس کے معاملے کو طول دینے کی کوشش کی جارہی ہے ، انتخابی اصلاحات پر بہت سا کام ہوچکا حکومت بتائے ہماری طرف سے کیا رکاوٹ ہے ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمان کے ممبران نے ہر سال گوشوارے داخل کرنے ہوتے ہیں انہیں چھپایا نہیں جاسکتا اور اگر اثاثے چھپائے جائے تو نااہلی کے زمرے میں آتا ہے اس پر کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں یہ حقائق ہیں
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ادارہ ہے اور ایک آئینی ادارے کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے حکومت کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے عمل کو پورا کرے لیکن حکومت نے یہ عمل شروع نہیں کیا اور لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف چار سال سے ان چار ممبران پر اعتراضات کررہی تھی جو ریٹائر ہوئے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے لئے مشاورت کا آغاز کیاجائے انہوں نے کہا کہ ممبران کے تقرر کیلئے بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بن چکی ہے اور اس کی ایک نشست ہوچکی ہے امید ہے یہ عمل جلد مکمل ہوگا
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر بہت سا کام ہوچکا ہے حکومت تاخیری حربے استعمال کررہی ہے ہم نے اصلاحات کے لئے بہت سی تجاویز دی ہیں حکومت اس عمل کو بھی مکمل کرے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس پر ٹی او آر بن جائیں اور احتساب کے عمل کا آغاز ہو لیکن بدقسمتی سے حکومت اس معاملے کو طول دینا چاہتی ہے اور حکومت معاملے طے ہوجائے اگر نہیں ہوتا تو پھر ہمیں سڑکوں پر آنا پڑے گا کیونکہ یہ حکومتی مسئلہ نہیں ہے یہ عوامی مسئلہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…