سجاول( این این آئی) بھارت اور پاکستان کے مابین سمندری متنازعہ علاقے سرکریک کے قریب بھارت نے اہم توانائی کی تنصیبات پر تیزی سے کام شروع کردیاہے جس سے ساحلی علاقے میں ماحولیات پر برے اثرات نمایاں ہورہے ہیں، جبکہ نزدیک ہی کوٹیشور کی بندرگاہ کو بھی اپ گریڈ کرلیاہے، جزائر اور کریکس کے علاقے میں ساحلی شہرکوٹ لکھپت میں پہلے ہی تنصیبات موجود ہیں ،رن آف کچھ کے علاقے سے نمک کے حصول کے علاوہ صوبہ گجرات میں بجلی کے حصول کیلئے متبادل ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں، جن میں سولر، ونڈ، ویسٹ ٹو انرجی، اور دیگر ذرائع سے صوبائی حکومت چھ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرتی ہے ، جبکہ ہائیڈل اور کول سے چھ ہزار میگاواٹ لیتی ہے، پاکستانی ملحقہ علاقے کچھ میں ملنے والے کوئلے کے بعد ساحل پر سانگی سیمنٹ، اور بارہ سومیگاواٹ کا کوئلے کا بجلی گھرسمیت دیگر کئی کوئلے پر چلنے والی تنصیبات قائم کی گئی ہیں، جبکہ حال ہی میں کچھ میں ہی مندرا کے علاقے میں نوہزار میگاواٹ کوئلے کے تھرمل پاور اسٹیشن لگائے گئے ہیں،یہ تمام تنصیبات گذشتہ چار سالوں سے روزانہ کئی درجن ملین ٹن کوئلہ جھونک رہی ہیں، فضائی آلودگی کے علاوہ موسمی اثرات پاکستان کے ساحلی علاقوں میں نمایاں ہورہے ہیں چار سالوں سے موسم گرمامیں شدیدگرمی نوٹ کی جارہی ہے،بارشوں کا سلسلہ کمزور ہوگیاہے،سردی میں بھی سائبیریاکے پرندے یہاں آنے کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، دریائے سندہ کا ڈیلٹا اور اس کی زندگی متاثر ہورہی ہے،دیگر انتہائی خطرناک اثرات نمایاں ہورہے ہیں،کراچی سمیت ٹھٹھہ ، سجاول بدین اور تھرکے علاقوں میں انسانی اور حیوانی شرح اموات میں بھی تیزی آگئی ہے،بھارت میں تین لاکھ میگاواٹ کی بجلی پیدا ہوتی ہے جس میں سے باسٹھ فیصد کوئلے سے حاصل ہوتی ہے اور جبکہ صرف ایک صوبہ گجرات میں بیس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے او ر یہ مقدار پاکستان کی کل بجلی پیداوار سے زیادہ ہے،گجرات میں کوئلے کے بے دریغ جلائے جانے سے اس کے اثرات پاکستان میں خطرناک حد تک محسوس کئے جارہے ہیں،بھارت کی اس ماحولیاتی دھشتگردی کا سدباب نہ کیاگیاتو آئندہ چند سالوں میں مزید تباھی پھیلنے کا اندیشہ ہے مذکورہ تنصیبات کے لئے سمندرکا پانی استعمال کرکے آلودہ پانی سمندر میں چھوڑاجاراہے جس سے بھی سمندری آبی مخلوق متاثرہوئی ہے اور ڈیلٹائی قدرتی ہیچری تباہ ہورہی ہے،اسی طرح ہمالیہ کے گلیشئیر سے نکلنے والے دریائے ستلج پر بھارت کا سب سے بڑا بجلی گھر بنایاگیاہے، ستلج کا پانی ہماچل میں بھکرا ڈیم سے اور نیچے نانگل ڈیم سے موڑا گیاہے ، ستلج کاباقی پانی پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے پہلے بھارتی پنجاب میں ہرائک سے راجھستان کے صحرا میں موڑدیاگیاہے، جس سے پورا صحراآباد کیاجاررہاہے،تاہم ستلج میں بھی اضافی پانی آنے کی صورت میں بغیر اطلاع پاکستان میں پانی چھوڑ دیاجاتاہے ستلج کا پانی چوری کرنے اور سیلاب چھوڑنے کی آبی دھشت گردی بھی بھارت مسلسل کررہاہے ۔
بھارت اور پاکستان کے مابین متنازعہ علاقے سرکریک میں بھارت کی سرگرمیاں،خطر ے کی گھنٹی بج گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بیرون ملک جانے والوں کے لیے بڑی پابندی، سفر سے پہلے یہ کام لازمی ہوگیا
-
لاہور میں فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں کی پولیس کو کال، ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشمہ کی لاش برآمد
-
ایرانی ریال کی پاکستان میں تازہ ترین قیمت
-
دبئی جانے والے پاکستانیوں سمیت غیرملکی کارکن ہوشیار، نیا قانون سامنے آگیا
-
محکمہ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی
-
گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
ترک ڈرامہ سیریل کورولوش عثمان کے معروف اداکار گھر میں مردہ پائے گئے
-
وہ عام پھل جسے کھانا عادت بناکر بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچنا ممکن ہے
-
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
-
سرفراز احمد کو کوچنگ سے کیوں ہٹایا گیا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے
-
اب چند منٹ میں ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں! بڑی خبر آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)
-
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر گرفتار
-
مومنہ اقبال تنازع: ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے نئے انکشافات سامنے آگئے



















































