منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے ،شہبازشریف نے بڑا اعلان کردیا

datetime 24  جون‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور زراعت کی ترقی پر آئندہ 2 برس میں 100 ارب روپے صرف کئے جائیں گے جس میں سے50 ارب روپے آئندہ مالی سال اور 50 ارب روپے اگلے مالی سال کے دوران خرچ کریں گے، اس تاریخ ساز زرعی پیکیج کا مقصد کاشتکاروں کی خوشحالی اور زراعت کی ترقی ہے، اربوں روپے کے عظیم الشان زرعی پیکیج کافائدہ کاشتکار کو ہوگا، کھادوں ،زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے نرخوں اور زرعی آلات کی قیمتوں میں کمی سے کاشتکار کوحقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ان خیالات کااظہار مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان سے پنجاب اسمبلی کے چیمبر میں ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے عظیم الشان پیکیج دیئے ہیں اور ان عظیم الشان پیکج پر عملدرآمد سے کاشتکار کی تقدیر بدلے گی اور زراعت ترقی کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دے گی اور ان بلاسود قرضوں سے ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے کاشتکار فائدہ اٹھا سکیں گے، پنجاب حکومت ان قرضوں پر مارک اپ خود برداشت کرے گی اور چھوٹے کاشتکاروں پر کسی قسم کابوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن ریسرچ کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں کیونکہ کاٹن کے کوالٹی بیج کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے زرعی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ کاشتکاروں کو معیاری بیچ کی فراہمی کیلئے بھی جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے ۔ملک کی تاریخ میں کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے پہلی مرتبہ100ارب روپے کا تاریخ ساز زرعی پیکیج دیاگیا ہے۔زرعی پیکیج پر عملدرآمد سے زراعت ترقی کرے گی اورکسان خوشحال ہوگا۔ زرعی پیکیج پر صحیح معنوں میں عملدر آمد کرکے اس کے ثمرات ہر صورت کاشتکار وں تک پہنچائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا اصل ہدف فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ اورچھوٹے کاشتکارکی ترقی ہے ۔ عالمی کساد بازاری کے باعث زرعی شعبے کو ہونیوالے نقصان کی تلافی بھی زرعی پیکیج سے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے ۔پنجاب حکومت نے زراعت کے شعبے کی ترقی اورکسان کی خوشحالی کیلئے انقلابی اقدامات کیے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ زراعت ،لائیوسٹاک اورڈیری فارمنگ کو ترقی دے کر خوشحالی کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے اورجدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر ان شعبوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے اورزراعت کی ترقی سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک سے غربت اوربے روزگاری کے خاتمے کیلئے زراعت ،لائیو سٹاک اور ڈیری فارمنگ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ریسرچ وڈویلپمنٹ کے ساتھ زرعی تحقیق کے نتائج کاشتکاروں کو منتقل کرنا بھی ضروری ہے ۔اراکین اسمبلی نے کاشتکاروں کی فلاح وبہبود کے لئے تاریخی زرعی پیکیج دینے پر وزیراعظم محمد نوازشریف اوروزیراعلیٰ شہبازشریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کر کے وزیراعظم اوروزیراعلیٰ نے کاشتکاروں کے دل جیت لئے ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے اراکین اسمبلی میں منور احمد گل، سجاد حیدر گجر، ملک احمد سعید خان، سید محمد محفوظ مشہدی، لیفٹیننٹ کرنل (ر) سردار ایوب خان، راجہ عبدالحنیف، چوہدری زاہد اکرم ،نعیم اللہ گل، قیصراقبال سندھو، امانت اللہ خان شادی خیل اور چوہدری محمد اشرف شامل تھے۔ اس موقع پر ایم پی اے منشاء اللہ بٹ بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…