پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت نے مکمل شواہد ملنے تک مقتولہ حلیمہ کے4 سالہ بیٹے عبداللہ کو ایدھی ہوم کے سپرد کردیا

datetime 11  جون‬‮  2016 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت نے مکمل شواہد ملنے تک مقتولہ حلیمہ کے 4 سالہ بیٹے عبداللہ کو ایدھی ہوم کے سپرد کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت 15جون تک ملتوی کردی ہے۔عدالت نے فیصل ایدھی کے وکلا کو اعتراضات داخل کرنے کیلئے 15 جون تک مہلت دیدی جبکہ بچے کی نانی کا بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا ایک مرتبہ پھر مسترد کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق عبداللہ کے والد چوہدری اقبال کی جانب سے بچے کی حوالگی کے لئے دائر درخواست کی سماعت ہفتہ کوفیملی کورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر چوہدری اقبال کے وکیل کی جانب سے عبداللہ کا برتھ سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ والدہ حلیمہ کے انتقال کے بعد چوہدری اقبال ہی بچے کے حقیقی وارث ہیں لہذا عبداللہ کو والد کے سپرد کیا جائے۔عدالتی نوٹس پر ایدھی فانڈیشن نے اپنے تحریری جواب میں موقف اختیارکیا کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہواکہ عبداللہ کے والد چوہدری اقبال ہیں، بچے کو چوہدری اقبال کے حوالے کرنے سے پہلے درخواست گزار کو اپنی ولدیت کے سلسلے میں شواہد دینا ہوں گے، عدالت درخواست گزار سے نکاح نامہ اور طلاق نامہ طلب کرے اور چوہدری اقبال اورعبداللہ کا ڈی این اے کرایا جائے جب کہ درخواست گزار کی جانب سے متوفی حلیمہ بی بی کو نان نفقے کے لیے بھیجی گئی رقم کے ثبوت بھی طلب کئے جائیں۔فیصل ایدھی کے وکیل نے کہاکہ چودھری اقبال کے پاس حلیمہ سے شادی کا نکاح نامہ نہیں ہے، بچہ حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے اعتراضات داخل کریں گے۔جس پر چودھری اقبال کے وکیل نے کہاہمارے پاس تمام مطلوبہ دستاویزات ہیں، ایدھی سینٹر صرف نگراں ہے، بچہ والد کے حوالے کیاجائے اور ماموں اور نانی کابیان بھی ریکارڈ کیا جائے،انھیں بچے کی حوالگی پر اعتراض نہیں ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایدھی سینٹر کی ہے۔بچے کے ماموں کا شناختی کارڈ ایف آئی آر میں الگ ہے اور جو عدالت میں دیا ہے وہ الگ ہے۔عدالت نے ضرورت محسوس کی تو بچے کی نانی اور ماموں کو طلب کریں گے۔عدالت نے چودھری اقبال کے وکیل کی جانب سے بچے کی نانی کا بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فیصل ایدھی کے وکلا کو اعتراضات داخل کرنے کیلئے 15جون تک مہلت دے دی۔عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فریقین کو آئندہ سماعت پر بچے کی حوالگی کے حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کیس کی سماعت 15جون تک ملتوی کردی اور حکم دیا کہ کیس کا فیصلہ ہونے تک بچے کی دیکھ بھال ایدھی فانڈیشن ہی کریگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…