پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

ملا اختر منصور کوایران میں کیوں نہیں نشانہ بنایاگیا؟پاکستان میں حملے کا مقصد کیا تھا؟سابق فوجیوں کی تنظیم کا حیرت انگیزدعویٰ

datetime 29  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)سابق فوجیوں کی تنظیم پیسا نے کہا ہے کہ ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ سے طالبان کو مزاکرات پر آمادہ کرنے کی پاکستان کی سنجیدہ کوششیں دم توڑ گئی ہیں۔عام خیال ہے کہ امریکی حملہ کا مقصد پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا تھا ورنہ طالبان رہنما کو ایران میں بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔امریکی سینٹ پاکستان کی بلقانائیزیشن کی حامی ہے محکمہ خارجہ صورتحال کا نوٹس لے۔ان خیالات کا اظہار پیسا کے اول نائب صدر ایڈمرل تسنیم کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں ایڈمرل فسیح بخاری، ائیر مارشل مسعود اختر، جنرل تعیم اکبر، برگیڈئیر میاں محمود، برگیڈئیرجاوید اختر، برگیڈئیرعربی خان، برگیڈئیرمسعود الحسن، کرنل دلیل خان، کیپٹن اکمل شاہ ، چودھری ضیاء نسیم گھمن اور دیگر موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ ڈرون حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کے منافی بھی ہے ۔پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے مگر اسکے لئے چین سے بڑھتے ہوئے تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتا جبکہ ایران اور روس سے بھی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ سینیٹ کی جانب سے پاکستان کی مالی امداد کے بل کی منسوخی جسے ایف سولہ طیاروں کی خریداری کیلئے استعمال کیا جانا تھا تاسف کا مقام ہے مگر اس سے زیادہ خطرناک بل کی ایک شق ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان طیاروں کو سیاسی آزادی مانگنے والوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس شق کی امریکی سینٹ کے پاکستان کو بلقانائیزیشن کی طرف دھکیلنے کے عزائم واضع ہو جاتے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں ہماری حکومت کی خاموشی حیران کن ہے۔ امریکہ کانگریس اور میڈیا میں پاکستان کے خلاف مہم سے واضع ہوتا کہ سرد جنگ کے دوران دی گئی ہماری قربانیوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے جبکہ ہمیں خطہ میں تبدیل شدہ امریکی سٹرٹیجی پر عمل درامد کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان امریکہ کو پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر اگر ہمارے پاس کوئی اہل وزیر خارجہ ہوتا تو وہ دنیا کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کر سکتا ہے۔گزشتہ چند ماہ میں بعض بعض سیاستدانوں اور شخصیات کی جانب سے کرپشن اور پاکستان کے خلاف سرگرمیاں سامنے آئی ہیں جنھیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے، میمو گیٹ کو بھی نہ بھولا جائے جبکہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کا عمل سست نہ ہونے دیا جائے۔بعد کرپشن کے مقدمات میں حکومت بہ یک وقت مدی اورملزم نظر آتی ہے۔مزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل مساجد کو انکا اصل مقام یعنی عبادت ، امن اور یکجہتی کا زریعہ بنائیں ۔انگور اڈہ کی چیک پوسٹ افغان فوج کو دینے کی اطلاعات پر متعلقہ محکمہ وضاحت دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…