اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربرا مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ لندن میں آصف علی زر داری سے براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی ٗ سابق صدر کے قریبی ساتھی مجھ سے ملنے آئے ٗ داغداردامن والے لوگ وزیراعظم سے احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں ٗ نواز شریف احتساب سے نہیں بھاگ رہے، موجودہ حالات میں ملک سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا،جب تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا تب تک اپوزیشن کو غیرمناسب رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئے ٗ دھرنوں کے ذریعے جمہوریت کیلئے خطرہ بننے والے لوگ جمہوریت کے محافظ نہیں ہوسکتے ٗ آئندہ الیکشن 2018ء میں ہی ہوں گے ٗ ٹی او آرز آئین اور قانون کے دائرے کے اندر تشکیل دیئے جائیں۔ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لندن میں آصف علی زرداری سے براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی تاہم ان کے قریبی ساتھیوں نے مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور ملنے آئے ٗان لوگوں سے جو گفتگو ہوئی وہ آصف علی زرداری تک پہنچائی گئی اور زرداری صاحب نے جو رسپانس دیا وہ مثبت تھا اور ان کے خیالات اور موقف کے بارے میں وزیراعظم محمد نواز شریف کو آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مفاہمت کی سیاست آصف علی زرداری کی شناخت بن چکی ہے ٗ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو گزارش کر رہا ہوں کہ وہ پی پی پی اور آصف علی زرداری کی مفاہمت والی پالیسی کو مجروح نہ کریں۔ وزیراعظم نواز شریف پر جب تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا تب تک اپوزیشن کو غیرمناسب رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میں جب چاہوں آصف علی زرداری یا کسی بھی سیاسی رہنما سے ملاقات کرسکتا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ اس وقت دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں پانامہ لیکس کا ذکر نہیں ہو رہا‘ میں نہ مانوں کی سیاست نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے احتساب کی بات وہ لوگ کر رہے ہیں جو خود الزمامات کی زد میں ہیں اور ان کے دامن صاف نہیں‘وزیراعظم احتساب سے نہیں بھاگ رہے۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ پارلیمنٹ کے جن ارکان کے نام آئے ہیں سب سے پہلے ان کے احتساب کی بات کریں‘ مدعی وہ بنے جو خود پاک دامن ہو‘ احتساب کیلئے دوہرے معیار کو قبول نہیں کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز آئین اور قانون کے دائرے کے اندر تشکیل دیئے جائیں، کسی کی خواہش کے تحت نہیں۔ حکومت نے احتساب سے کبھی بھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت ہم نے تین نکات پر نیا سفر شروع کیا ہے جن میں اقتصادی ترقیٗ دہشت گردی میں کمی اور امن و امان میں بہتری آئی ہے‘ یہ سفر جاری ہے اور منزل کی طرف گامزن ہیں‘ مگر اقتدار کی حوس رکھنے والے لوگ رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ الیکشن 2018ء میں ہی ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دھرنوں کے ذریعے جمہوریت کیلئے خطرہ بننے والے لوگ جمہوریت کے محافظ نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ کے پی کے میں مخالفین کو نشانہ بنانے کیلئے احتساب کمیشن بنایا گیا تھا مگر جب خود صوبائی حکومت اس کی گرفت میں آگئی تو احتساب کے دعویداروں نے کمیشن کے سربراہ کو ہی فارغ کردیا۔
لندن میں آصف علی زر داری سے براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی ٗ قریبی ساتھی مجھ سے ملنے آئے ٗ مولانا فضل الرحمن
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































