اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے 12 ہزار خصوصی پولیس اہلکاروں کو نکالنے کا فیصلہ۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے تحفظات کا اظہار کر دیا۔ آئی جی ناصر خان درانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے صوبے میں دہشت گردی کے تدارک اور پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت میں شدید مشکلات حائل ہوں گیآئی جی کے پی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2007 ءمیں صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدترین تھی، ا ±س وقت 67 ہزار پولیس اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا تھا‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی جوان قربانیاں دے چکے ہیں۔اب پولیس کو شاہراہ قراقرم کی سیکیورٹی کے معاملات بھی سونپ دیئے گئے، صوبے بھر میں پولیس اسٹیشنز سے اہلکاروں کی تعداد کم کرکے قراقرم ہائی وے کی حفاظت کے لیے 200 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، پولیس کے پاس پہلے ہی وسائل زیادہ نہیں ۔ آئی جی کے پی نے ان خصوصی پولیس اہلکاروں کے کنٹریکٹ میں مزید 2 سال تک توسیع کی سفارش کی گئی تھی تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
12000 ہزارسرکاری ا ہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ‘وجہ کیا بنی ؟ جانئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری
-
مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے بڑا فیصلہ
-
افغان کرکٹر راشد خان پر افغانستان آنے کی پابندی عائد
-
سکولوںکی چھٹیوں بارے اہم فیصلہ متوقع
-
اسلام آباد، راولپنڈی میں خوفناک دھماکے کی آواز، فلائٹ آپریشن کچھ دیر کیلئے معطل
-
حکومت کا سرکاری وخودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کافیصلہ
-
موسلادھار بارش کی پیش گوئی، الرٹ جاری کر دیا گیا
-
عیدالفطر کے موقع پر اسپرنگ بریک کا اعلان
-
دانیہ شاہ کے شوہر حکیم شہزاد نے نویں جماعت کی طالبہ سے پانچویں شادی کرلی
-
اس سال کتنے روزے ہوں گے اور عید کے چاند کی پیدائش کب تک ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
این ڈی ایم اے نے ملک میں بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کر
-
جنگ کے خاتمے کیلیے پیوٹن نے ایسی کیا پیشکش کی تھی جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا ۔۔؟ جانیے

















































