جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

پا نا ما لیکس معا ملہ ! اپو زیشن کی حکو مت کیلئے تیا ر کر دہ 15 نکات وقت سے پہلے لیک ہو گئے

datetime 3  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اپوزیشن جماعتوں نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کےلئے ٹی او آرزکے 15نکات پر اتفاق کرلیا،اپوزیشن وزیراعظم کے فوری استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہو گی، ٹی او آرزمیں سب سے پہلے وزیراعظم کے خاندان کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا،15 رکنی ٹرمز آف ریفرنس میں وزیراعظم کے مشترکہ اجلاس میں آ کر خاندان کے اثاثے اور آمدن کا ذریعہ بتانے، پانامہ پیپرز کےلئے انکوائری کمیشن کی تشکیل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کرانے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں بااختیار کمیشن بنائے جانے پر اتفاق کیا گیا،تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز کے ڈرافٹ پر تمام جماعتیں متفق ہیں ، چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس کی سنجیدہ تحقیقات ہوںجبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ٹی او آرز کے 15نکات پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو مسترد کر دیا ہے، پانامہ لیکس کے معاملے پر واحد حل جوڈیشل کمیشن ہے، اپوزیشن کی کوئی جماعت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔تفصیلات کے مطابق منگل کو پیپلزپارٹی کے رہنما و سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اپوزیشن نے ٹی او آرز کے 15 نکات پر اتفاق کرلیا گیا ۔اپوزیشن کی جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کا نام آنے پر احتساب کا آغاز وزیراعظم اور ان کے خاندان سے ہوگا جب کہ وزیراعظم اپنے ، خاندان کے اثاثے اور آمدن کا مشترکہ اجلاس میں آکر اعلان کریں۔ اپوزیشن کے ٹی او آرز کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے، اگرکمیشن نہیں بنتا توٹی او آر کا سارا عمل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے مکمل کیا جائے اور پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کے پاس ہو۔ٹرمز آف ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ پاناما پیپرزانکوائری اینڈ ٹرائل ایکٹ کے نام سے خصوصی قانون منظور کیا جائے اور صدارتی آرڈیننس سے بننے والے انکوائری کمیشن کو پارلیمانی تحفظ فراہم کیا جائے جب کہ پانا لیکس کی تحقیقات بین الاقوامی آڈٹ فرم سے کرائی جائے اور درم کا انتخاب تشہیر کر کے اور بولی دے کر کیا جائے۔نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن ٹی او آرز میں وزیراعظم نواز شریف کے فوری استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہو گئی ہے اور وزیراعظم کے استعفے کو اگلے مرحلے میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز کے ڈرافٹ پر تمام جماعتیں متفق ہیں، چار گھنٹے کے تبادلہ خیال کے بعد ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے گزشتہ روز اپنے ڈرافٹ شیئر کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تاریخ کا آج انوکھا دن ہے کہ ٹی او آرز پر تمام جماعتیں متفق ہو گئی ہیں۔ اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی نے استعفے کا مطالبہ نہ کر کے کیا وزیراعظم نوازشریف کو بچا نہیں لیا؟ جس پر شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ فکر نہ کریں پہلے ڈرافٹ سامنے آنے دیں جب پلان بی کا وقت آئے گا تو آپ تیار پائیں گے، پانامہ لیکس معاملے کی سنجیدہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ٹی او آرز کے 15نکات پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو مسترد کر دیا ہے، پانامہ لیکس کے معاملے پر واحد حل جوڈیشل کمیشن ہے، اپوزیشن کی کوئی جماعت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، پانامہ لیکس پر تحقیقات کےلئے کمیشن کو تین ماہ کا وقت دیئے جانے پر اتفاق ہوا ہے، وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر چھ جماعتیں ساتھ ہیں جبکہ دو کا اختلاف ہے۔(اح)



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…