منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹرعاصم کو بچانے کیلئے اندر ہی اندر بڑا کام ہوگیا،رینجرز کے وکیل ششدر

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک)سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں لیاری گینگ وار اور القاعدہ دہشت گردوں کے علاج و معالجے کے بلوں کی کاپیاں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ہفتہ کودہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم کے خلاف کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر رینجرز کے لا آفیسر نے دہشت گردوں سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضیاء الدین اسپتال پر چھاپے کے دوران ہم نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ اور القاعدہ کے دہشت گردوں متعدد ملزمان کے علاج کے بلوں کی کاپیاں برآمد کی تھیں۔ لا آفیسر نے بتایا کہ اسپتال پر چھاپے کے دوران لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کے علاج کے 47، القاعدہ دہشت گردوں کے 4 اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے علاج کے 9 بل برآمد ہوئے تھے۔رینجرز حکام کے مطابق سابق تفتیشی افسر بہت ایمانداری سے کیس کو آگے لے کر چلے لیکن موجودہ تفتیشی افسر نے دہشت گردوں کے بلوں کی کاپیاں غائب کردی ہیں، یہ کاپیاں کیس پراپرٹی کا حصہ اور اہم ثبوت کے طور پر سیل کی گئی تھیں، ان بلوں کی کاپیاں اب بھی ضیاء الدین اسپتال میں موجود ہیں، اگر عدالت چاہے تو بلوں کی کاپیاں منگوائی جا سکتی ہیں۔بغیر کسی وجہ کے ڈاکٹرعاصم کی بیٹی کی درخواست پر تفتیش منتقل کردی گئی ہے ۔نئے تفتیشی افسر نے مقدمہ ختم کرکے ڈاکٹر عاصم کو فائدہ پنچانے کی کوشش کی ہے ۔وکیل نے مزید کہا کہ رینجرز نے تفتیش منتقلی کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔تفتیش کی منتقلی سندھ حکومت کی بدنیتی ہے ۔رینجرز کے وکیل نے کہا کہ ضیا الدین اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹریوسف ستار اور پولیس کے بیانات موجود ہیں ۔گواہوں نے عدالت میں بتایا کہ اسپتال میں دہشت گردوں کا علاج کیا جاتا تھا ۔تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے گواہوں کے بیانات نظر انداز کردیئے ہیں ۔ دوسری جانب کیس کے تفتیشی افسر نے رینجرز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میری ایمانداری کی وجہ سے مجھے بہترین پولیس افسر کا ایوارڈ بھی دیا گیا اور میں بیرون ملک بھی خدمات دے چکا ہوں، رینجرز کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…