منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں بھائی کا بہن کے ساتھ لوگوں کے سامنے ایسا اقدام کہ انسانیت دم توڑ گئی

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک ) کراچی میں سفاک بھائی نے بہن کو بے دردی سے قتل کردیا ، زخموں سے چور سترہ سالہ سمیرا ڈیڑھ گھنٹے تک تڑپتی رہی اور بھائی بے حسی کے ساتھ پاس بیٹھا موبائل فون سے کھیلتا رہا۔ مومن آباد کراچی میں انسانیت سسکتی رہ گئی ، بھائی حیات نے بہن سے زندگی چھین لی ، لوگ تماشا دیکھتے رہے ، فوٹیج بناتے رہے لیکن کسی نے مدد کو پکارتی سمیرا کی جان نہ بچائی۔زخموں سے چور درد سے تڑپتی مدد کو پکارتی یہ سترہ سالہ سمیرا ہے جسے کسی اور نے نہیں اسی کے سفاک بھائی نے چھریوں کے وار کرکے زخمی کردیا اور اس کے چہرہ کو ڈھانپ کر پاس بیٹھ کر بے حسی سے موبائل فون سے کھیلنے لگا۔ سمیرا ڈیڑھ گھنٹے تک تڑپتی رہی ، ایڑیاں رگڑتی رہی ، شاید بڑے بھائی کو رحم آجائے ، کوئی محلے دار ہی اس کو ہسپتال پہنچا دے۔کوئی حساس دل ریسکیو یا پولیس کو ہی اطلاع دے ، لیکن تڑپتی ہوئی سمیرا کی چیخیں کسی نے نہ سنی۔ بھائی کا خون تو سفید ہو ہی گیا تھا ، وہاں موجود لوگ بھی تماشا دیکھتے رہے ، نہ کسی نے ظالم کا ہاتھ روکا اور نہ کسی نے مظلوم کی مدد کی۔ بس اپنے موبائل فون سے فوٹیج بناتے رہے اور سمیرا کو بے چارگی کے ساتھ موت کی وادی میں اترتا دیکھتے رہے۔بے حس معاشرے کی اس تصویر میں یہ چند بچے ہیں جن میں آنکھوں میں آنسو ، چہرے پر خوف اور بے بسی ہے لیکن یہ معصوم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔ سترہ سالہ سمیرا کو اس کے بھائی نے محض شبے میں قتل کیا۔ اسے خود بھی نہیں پتہ کہ کیا واقعی یہ غیرت کے نام پر قتل ہے یا نہیں۔ سمیرا کی زندگی کا قاتل بھائی حیات اب سلاخوں کے پیچھے ہے لیکن بے حسی کا تماشا دیکھنے والے سب آزاد ، کیا اس تڑپتی موت کے تماش بین بھی اس جرم میں شریک نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…