اسلام آباد (نیو زڈیسک) سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہاہے کہ بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں کؤی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ٗ کل بھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا معاملہ زیر غور آیا ٗرا افسر کے پاکستان میں غیر قانونی داخلے پر سخت تشویش ہے ٗ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر اہم مسئلہ ہے ٗ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے ٗ بھارت جب بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گا ہم اسے خوش آمدید کریں گے ٗ افغان مفاہمت کا عمل بہتر انداز سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ٗ پاکستان میں طالبان وفد کے دورے کا علم نہیں ٗ افغان صدر کے پارلیمنٹ میں پاکستان سے متعلق دیئے گئے بیان پر تبصرہ نہیں کروں گا ۔ بدھ کو یہاں دورہ بھارت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں کل بھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا معاملہ زیر غور آیا اور کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور اقبالی بیان کے معاملے پر بھی بات ہوئی اس موقع پر دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی ہم منصب پر زور دیا کشمیر کا مسئلہ وہاں کے عوام کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہے۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں را کی امن مخالف سرگرمیاں امن کوششیں ناکام بناتی ہیں ۔اعزاز چودھری نے کہا کہ پاکستان نے افغان مفاہمت کا عمل بہتر انداز سے آگے بڑھانے پر زور دیا ،نئی دہلی میں افغان حکومت سے قریبی رابطے کا عزم دہرایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طالبان وفد کے دورے کا علم نہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ معاملات پر بات چیت کی گئی تاہم اس ملاقات میں کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا بھارت جان چکا ہے کہ تمام مسائل کا حل بات چیت میں ہے تاہم بھارت کی جانب سے جامع مذاکرات کی بحالی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی بھارت جب بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گا ہم اسے خوش آمدید کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کی گرفتاری پر سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ کل بھوشن یادیو کے اغوا کی بات درست نہیں، اسے پاکستانی اداروں نے گرفتار کیا ہے اور وقت آنے پر ادارے تمام تفصیلات سے آگاہ بھی کریں گے ٗ بھارت نے کل بھوشن کیلئے رسائی مانگی ہے۔افغان امن عمل سے متعلق اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات کی کوشش میں 4 ملکی گروپ میں کوئی کامیاب نہیں ہوسکا تاہم ان مذاکرات کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایک سوال کے جواب میں اعزاز چوہدری نے کہاکہ افغان صدر کے پارلیمنٹ میں پاکستان سے متعلق دیئے گئے بیان پر تبصرہ نہیں کروں گا تاہم کابل میں دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم کسی صورت پرتشدد کارروائیوں کو قبول نہیں کریں گے، تمام عسکری گروپوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔
کل بھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا معاملہ زیر غور آیا ٗاعزاز چوہدری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
دنیا بھر میں وقت کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
سرکاری حج اسکیم میں درخواست دینے والوں کے لیے اہم ہدایت جاری
-
گلشن حدید میں ایک گھر سے 5 لاشیں ملنے کا کیس، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
-
جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
بابراعظم نے ون ڈے میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
ماں نے پانچ سالہ بیٹی کو قتل کر کے خود ہی پولیس بلا لی



















































