منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن مکمل با اختیار ،تین طرح کے پاکستانیوں سے تحقیقات ہونگی ‘بیرسٹر ظفر اللہ

datetime 24  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن مکمل با اختیار ہوگا اور اسکے لئے تمام اخراجات حکومت ادا کرے گی ،چیف جسٹس کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ یک رکنی یا 17ججز پر مشتمل کمیشن بنا دیں ،جوڈیشل کمیشن کا اختیار ہوگا کہ وہ آڈٹ کیلئے اندرون یا بیرون ملک جس کمپنی کی چاہے خدمات حاصل کر سکتی ہے ،پاکستان میوچل لیگل اسسٹنٹس کا سگنیٹری ہے اور اس کے لئے کسی بھی ملک سے دستاویزات مانگی جا سکتی ہیں،کمیشن کے پاس ایک چپڑاسی سے لے کر صدر مملکت اور ایک عام شہری سے لے کر کسی ادارے کے سربراہ کو بھی بلا نے کا ختیار ہوگا تاہم قانون کے مطابق جسے جو استحقاق حاصل ہے اسے اس کے مطابق دیکھے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کے ہمراہ پریس کلب میں پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹرم آف ریفرنسز کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کیا ۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے تین طرح کے پاکستانیوں سے تحقیقات کرنی ہیں جن میں پاکستانی شہری ، پاکستانی نژاد اور پاکستان میں قانونی وجود رکھنے والے اداروں کی تحقیقات ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن تحقیقات کرے گاکہ کہاں رشوت لی گئی اور بد عنوانی ہوئی۔ کمیشن غلط کام کی ذمہ داری کا تعین کریگا اور راست اقدام تجویز کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن کو با اختیار بنانے کے لئے قانون میں درج نکات کا واضح تعین کر دیاگیا ہے۔ کمیشن کسی بھی ٹیکس وآڈٹ کے ماہر ادارے کی خدمات حاصل کرے گا ۔ کمیشن کوبیرون ملک اپنا نمائندہ بھیجنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا ۔ کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی مقام سے تمام دستاویزات حاصل کر سکتا ہے۔ تمام وفاقی وصوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے ۔ ٹیکس سے متعلق تمام سرکاری ادارے کمیشن کو معاونت دینے کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیبنٹ ڈویژن کمیشن کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرے گا ۔ انکم ٹیکسآرڈیننس کے تحت ایف بی آر کمیشن کی معاونت کا پابند ہوگا ۔ ٹیکس کا کسی بھی قسم کا ریکارڈ کمیشن کو درکار ہو ا تو وہ فراہم کیا جائے گا۔ کمیشن میں آکر بیان دینے والے شخص کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ کمیشن کو غیر ملکی ماہر اداروں سے معاونت کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔ ملکی قوانین کے مطابق عالمی ٹاسک فورس کا قیام نہیں ہو سکتا۔ پانامہ پیپرز کا معاملہ جلد حل ہونا حکومت کے سیاسی مفاد میں ہے ۔ تحقیقات کتنے عرصے میں کرنی ہے اس کا اختیار کمیشن کو حاصل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کمیشن کے پاس قرض دہندگان کی تمام معلومات پہلے ہی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن پاک چائنہ اکنامک کو ریڈور اور اورنج لائن ٹرین سمیت کسی بھی سطح کے میگا پراجیکٹ میں کرپشن کی تحقیقات کر سکے گا، اگر کسی فرد یا ادارے کے پاس اگر کوئی دستاویزات ہو گی تو کمیشن وہ زبردستی بھی حاصل کر سکے گا خواہ اس کیلئے کسی شخصیت کے گھر یا دفتر کا تالہ ہی کیوں نہ توڑنا پڑے ، اس کمیشن کو تحقیقات کیلئے کسی بھی بنک یا گھر کے اندر جانے کی اجازت ہو گی ۔حکم عدولی کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کابھی اختیار حاصل ہوگا ۔کمیشن آ ف شور کمپنیوں کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی شہرت کی حامل فرانزک آڈٹ کرنیوالی کسی بھی فرم کا تقرر کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہو نے پر نظام میں نقائص کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی صوابدید ہے کہ وہ تحقیقات کیلئے یک رکنی یا 17رکنی کمیشن بنائیں ۔ انہوں نے تحقیقات کے لئے مدت کے تعین کے حوالے سے کہا کہ اگر کمیشن کو ایک یا دو ماہ میں تحقیقات مکمل کر نے کا پابند کیا جاتا تو یہ کہا جاتا کہ اسے وقت تھوڑا دیا جارہا ہے اس لئے یہ بھی کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ اس کی تحقیقات جس طرح چاہے مکمل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تحقیقات میں بینکوں سے سیاسی ادوار میں اثر و رسوخ سے قرضے معاف کرانے والوں کا بھی پتہ لگایا جائے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…