منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

خیبربینک اشتہار،وزیرخزانہ پرالزامات معاملہ مزید گمبھیرہوگیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 17  اپریل‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے اس بات پرانتہائی افسوس کااظہار کیاہے کہ بینک آف خیبرکے ایم ڈی نے ان کے خلاف متنازعہ اشتہار کی اشاعت کے بعد نہ صرف اپنی بھونڈی حرکت کی عجیب وغریب تاویلیں شروع کی ہیں بلکہ دروغ گوئی کے نت نئے پُل بھی باندھنا شروع کیئے ہیں حالیہ بیان میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ متنازعہ اشتہار اس نے بورڈ آف ڈائریکٹر زکی منظوری اورایماء پر شائع کیاہے حالانکہ اگلے ہی لمحے بورڈ کے اہم ترین ممبر اورسیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ نے ان سے رابطے میں واضح کردیاہے کہ یہ اشتہار یا اسکے کسی بھی متنازعہ مندرجات بورڈ کے کسی اجلاس میں زیر غور نہیں آئے اور نہ ہی ان کے علم میں ایسی کوئی متعلقہ بات لائی گئی ہے ہمارے بینک کی بدقسمتی کہ اس کا سربراہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہاہے اور اپنے گریبان میں جھانکنا تک گوارا نہیں وہ اشتہار میں مجھے کارپوریٹ گورنینس رولز سے بے خبری کاخودساختہ طعنہ بھی دے رہا ہے مگر اسے شاید اندازہ نہیں کہ اپنی مذموم حرکت سے اس نے انہی رولز کی دھجیاں اڑا دی ہیں اوربینک کی ساکھ کوکس قدر نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ الگ بات ہے کہ صوبے کے عوام اوران کی منتخب حکومت بینک یا دوسرے مالی مفادات کو کسی قیمت پر نقصان پہنچنے نہیں دے گی اوراغیار کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں اورسازشوں کو ناکام بنادے گی مظفر سید ایڈوکیٹ نے واضح کیا کہ بینک آف خیبریہاں کے عوام کاواحد بڑا مالیاتی ادارہ ہے اورہم اسے کسی دروغ گو اور ڈرامے باز کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑ سکتے اسلئے بہتر ہے کہ وہ حقائق سامنے آنے پر مزید خفت کاشکار ہونے کی بجائے عزت کے ساتھ اس اہم عہدے سے کنارہ کش ہوجائیں کیونکہ وہ اس کے اہل نہیں رہے وزیرخزانہ نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت بینک آف خیبرمیں بدعنوانی کے مرتکب اہلکاروں کے مواخذے پر متفق ہے جبکہ بینک سمیت تمام اداروں سے بے ضابطگیوں کاخاتمہ ہمارے پارٹی قائد سراج الحق کی کاسرکردگی میں شروع کرپشن فری پاکستان مہم کا ناگزیر جزہے اسی طرح انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبرکی اسلامی بینکاری اوراسکی شاخوں اورخدمات کی توسیع بھی وسیع ترقومی مفاد میں جاری رکھی جائے گی اور کسی فرد واحد کو اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیاجائے گا انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کی اشتہار بازی اور بیانات سے اندازہ ہوتاہے کہ اسے سیاست کاشوق ہوگیاہے تو پھر وہ اس عظیم بینک اورقومی ادارے پررحم کریں اور سازشوں اوربیان بازی کی بجائے بینک سے مستعفی ہوکر عملی سیاست شروع کریں تاہم اپنے کوتوت کاحساب انہیں ہر صورت دینا پڑے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…