منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

خبردار ۔۔ہوشیار۔۔ کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے سوچ لیں ، قانون پاس ہو گیاہے

datetime 14  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی میں سائبر کرائم کی روک تھام سے متعلق بل منظور کرلیا گیا ہے۔ یہ بل انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیرِ مملکت ا±نوشہ رحمان نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔اس بل کو اب منظوری کے لیے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں حکمراں جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔اس بل کے بارے میں سول سوسائٹی کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ اس بل کے پاس ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات مل جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اس بل کے پاس ہونے کی وجہ سے شہری آزادیاں محدود کردی جائیں گی۔اس بل کے تحت کسی کی رضامندی کے بغیر کسی کو ٹیکسٹ میسیج بھیجنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانے والے کو جرمانے کے ساتھ ساتھ قید کی سزا بھی سنائی جاسکے گی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ اس بل سے ا±ن کا کاروبار شدید متاثر ہوگا۔اس بل کے تحت مذہب، ملک، اس کی عدالتیں اور مسلح افوج کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکے گا اور ایسا ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ملکی دفاع، کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہونے یا معاشرے میں بدامنی پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر کسی بھی ویب سائٹ کو بلاک کرسکتی ہے۔سائبر کرائم کے بل کو جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا گیا تو اس وقت بھی حکومت نے قائمہ کمیٹی کے اراکین کو اس بل مجوزہ مسودے کو منظور کرنے کے لیے دباو¿ ڈالا تھا۔تاہم حزب مخالف کے اراکین نے اس دباو¿ کو تسلیم نہیں کیا تھا اور ا±نھوں نے بل کے مسودے میں کچھ ترامیم بھی تجویز کی تھیں جن میں اکثریت کو اس مسودے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…