اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیٹے نے خود آگ نہیں لگا ئی بلکہ ۔۔۔۔ما ں کا ایسا بیان کہ سا را منظر بدل گیا،بڑا مطا لبہ کر ڈالہ

datetime 12  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہونے والے نجی یونیورسٹی کے طالبعلم عبدالباسط کی موت معمہ بن گئی جب کہ عبدالباسط کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اس نے خودسوزی نہیں کی بلکہ اسے زندہ جلایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی کی نجی میڈیکل یونیورسٹی کے طالعبلم عبدالباسط کی ہلاکت معمہ بن گئی جب کہ ان کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے عبدالباسط کو جلایا جس میں کیمپس کا سیکیورٹی گارڈ بھی ملوث ہے جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے نارتھ ناظم آباد میں واقع ڈینٹل اسپتال میں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جارہا ہے تاہم اب تک مقدمہ درج نہیں کیا اور واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔
جھلس کر ہلاک ہونے والے طالبعلم عبدالباسط کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں نامعلوم نمبر سے فون آ کہ وہ فوری عباسی شہید اسپتال پہنچ جائیں جہاں وہ گئے تو ان کا بیٹا عبدالباسط جھلسا ہوا تھا جس کے بعد اسے سول اسپتال کے برن وارڈ منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج چل بسا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیٹے کی موت کے ذمہ دار پرنسپل اور پروفیسر ہیں اور عبدالباسط نے خودسوزی نہیں کی بلکہ اسے زندہ جلایا گیا ہے۔
عبدالباسط کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہمدرد یونیورسٹی میں کام کرنے والے سارے ڈاکٹر ایک جیسے نہیں لیکن ڈاکٹر ندیم کھوکھر بچوں کو پاس کرنے کے لئے لاکھوں روپوں کا مطالبہ کرتے ہیں، ڈاکٹرفرحت، ڈاکٹر ندیم کھوکھر،ڈاکٹرابرار اور ڈاکٹرفرقان میرے بیٹے کی موت کے ذمہ دارہیں اورانہی لوگوں نے اسے مارا ہے جب کہ کیمپس کا سیکیورٹی گارڈ بھی ا?گ لگانے میں ملوث ہے۔
عبدالباسط کے بھائی کے مطابق وہ گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلہ تھا جسے آئندہ سال آسٹریلیا جانا تھا اور اسے ماڈلنگ کا بھی بہت شوق تھا اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ سیلفیاں لیتا رہتا تھا۔ عبدالباسط کے بھائی کا نے اعلی حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خودسوزی نہیں قتل ہے، بھائی سے یونیورسٹی ملازم ندیم نے امتحان میں بٹھانے کے بدلے رشوت مانگی تھی اگر اس کے بھائی نے خود کو آگ لگائی تھی تو کسی نے اسے بچایا کیوں نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…