منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

گنداواہ،عبدالستار مگسی، محمد نواز مگسی اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف کو چھوڑ دیا

datetime 10  اپریل‬‮  2016 |

گنداواہ(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف جھل مگسی کے رہنماء عبدالستار مگسی، محمد نواز مگسی اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے مستفیٰ۔اس موقع پر انھوں نے جھل مگسی میں اپنے تمام ساتھیوں سمیت پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں جو پی ٹی آئی سے جو امیدیں وابستہ تھیں مگر پی ٹی آئی بلوچستان میں صرف مخصوص ٹولے کی ہو کر رہ گئی ہے۔حالانکہ پی ٹی آئی کو بلوچستان میں لانے اور فعال بنانے میں پشتون بیلٹ کا اہم کردار رہا ہے مگر افسوس اسے بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسی نا انصافی اور نظر انداز کی وجہ سے ہم پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اور تمام ساتھی پی ٹی آئی سے استفیٰ دے رہے ہیں۔اور آج کے بعد ہمارہ پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔انھوں نے مزید کہا کہ ہماے بڑے نواب ذوالفقار علی خان مگسی اور دیگرز نوابزدگان مخلص اور مہربان ہیں۔جھل مگسی کے عوام کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔بغیر اقتدار کے بھی جھل مگسی کے عوام کی دن رات ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیئے کوشاں ہیں اور ہم این اے 267 جھل مگسی۔ کچھی کے ضمنی انتخابات میں نوابزدہ میر خالد خان مگسی کی مکمل حمایت کا اعلان کر تے ہیں۔اور انشاء اللہ نوابزادہ میر خالد خان مگسی کی جیت یقینی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…