جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں یہ حال ہے تو ملک کا کیا ہوگا؟ دارالحکومت میں بھی شرمناک مثال قائم ہوگئی

datetime 22  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اسلام آباد میں یہ حال ہے تو ملک کا کیا ہوگا؟ دارالحکومت میں بھی شرمناک مثال قائم ہوگئی،سالہا سال سے حکمرانوں و سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے آج پاکستان بجلی و گیس کے بدترین بحران سے گزر رہاہے ہر دورمیں سیاستدانوں نے بلند و بانگ دعوے کئے مگر پاکستان کی مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ تو کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی بڑے منصوبوں پر کام شروع کرایا اور نہ ہی قابل ذکر تعداد میں بجلی و گیس کی کھپت میں اضافہ کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورا ملک بشمول جن علاقوں سے گیس دریافت ہوئی اور پورے ملک میں فراہم کی جارہی ہے جن میں بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے علاقے خاص طورپر قابل ذکر ہیں وہاں بھی عوام کو بجلی و گیس دستیاب نہیں۔شارٹ فال مسلسل بڑھتا جارہا ہے او راسی طرح عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا جارہا ہے اسی طرح گیس لوڈ شیڈنگ پر اسلام آباد کے شہریوں کا صبر بھی جواب دے گیا، چولہے ٹھنڈے پڑے تو خواتین اور بچے سبھی سڑک پر آ گئے۔ دو گھنٹے مرکزی شاہراہ بند رہی تب جا کر حکام گیس دینے پر راضی ہوئے۔ شہر اقتدار سے بھی گیس غائب ہو گئی ہے، چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ خواتین بھی سڑکوں پر آ گئیں۔سیکٹر جی سیون میں گیس لوڈ شیڈنگ نے گھروں سے گیس مکمل غائب کی تو شہریوں نے احتجاجاً مرکزی شاہراہ بلاک کر دی۔ گیس لوڈ شیدنگ کے ہاتھوں تنگ آئی خواتین اور بچے احتجاج میں مردوں سے بھی آگے رہے۔دو گھنٹے تک سیونتھ ایوینیو بند رہنے سے شدید ٹریفک جام ہوا تو اسسٹنٹ کمشنر موقع پر پہنچے، اہل علاقہ کو گیس فراہمی کی یقین دہانی کرائی تو احتجاج ختم کر دیا گیا۔اب وقت آگیا ہے کہ سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اورمیٹرو ٹرین جیسے منصوبوں کی بجائے سب سے پہلے عوام کو بجلی و گیس کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات کریں اگر خلوص نیت سے کام کیاجائے تو بہت جلد پاکستان میں ان دو چیزوں کی قلت کو ختم کیاجاسکتاہے کیونکہ بجلی و گیس کی قلت کی وجہ سے ملک بھر میں بے روزگاری کی شرح انتہائی بڑھ چکی ہے اور کاروبار ٹھپ ہوتا جارہا ہے بڑی تعداد میں صنعتیں پاکستان سے بنگلہ دیش، سری لنکا اوردبئی منتقل ہوچکی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…