جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ہاتھ میں پستول تھامے سینہ تان کراستاد نے استادی کا حق اداکردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2016 |

چارسدہ(نیوزڈیسک)باچاخان یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے ڈاکٹرحامد حسین نے 9دن پہلے ہی اپنے 3سال کے بیٹے کی سالگرہ منائی تھی۔شہید ہونے والے ڈاکٹرحامد حسین باچا خان یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر تعینات تھے ۔ڈاکٹرحامد حسین کی عمر35 برس تھی اور انہوں نے 9 دن پہلے اپنے 3سالہ بیٹے کی سالگرہ منائی تھی۔صوابی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حامد حسین 2012ءمیں پشاور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے۔انہوں نے برسٹل یونیورسٹی برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی،ان کی عمر35 برس تھی ۔ایک طالب علم ظہور احمد نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سننے کے بعد حامد حسین نے انھیں خبردار کیا کہ بلڈنگ سے باہر نہ جائیں۔انھوں نے بتایا کہ ’سر کے ہاتھ میں پستول تھی لیکن پھر انھیں گولی لگی اور وہ گر گئے۔ میں نے دیکھا کہ دو شدت پسند فائرنگ کر رہے تھے۔‘نوجوان استاد حامد حسین دو کم سن بچوں کے باپ تھے اور ا±ن کی ایک بیٹی کی عمر صرف گیارہ ماہ ہے اور پسماندگان میں دو بچوں کے علاوہ بیوہ اور ماں بھی ہیں۔دوسروں کے لیے محافظ کا کردار ادا کرنے والے شفیق استاد حامد دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بنے اور اپنے آخری سفر پر چلے گئے لیکن زندگی کے کٹھن سفر میں ا±ن کے کم سن بچے اور ضعیف ماں تنہا اور اکیلے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…