جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

حملہ آوروں نے پہلا فائر کس پر کیا،کیا کہہ رہے تھے؟ یونیورسٹی میں قتل عام کی اند رونی کہانی طلبہ کی زبانی

datetime 21  جنوری‬‮  2016 |

چار سدہ (نیوزڈیسک)یونیورسٹی کے نوجوان طالب عملوں میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور زخمی ہوگئے۔ چند ایسے تھے جو پشاور سکول کے بچوں کی مانند کلاسوں میں موجود میزوں کے نیچے یا پھر اپنے کمروں میں چھپ گئے۔چند عینی شاہدین نے حملے کے بعد باچا خان یونیورسٹی کے باہر موجود میڈیا سے گفتگو کی۔ایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلا فائر سکیورٹی اہلکاروں پر کیا اور اس وقت وہ خود بھی قریب ہی موجود تھے۔ہم نے کہا بھاگو یار یہ تو دہشت گرد آ گئے ہیں۔ پھر بس پتہ نہیںہم نے کچھ نہیں دیکھا ہم نے ان کے قدموں کی آوازیں سنیں اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے جو وہ نعرے لگا رہے تھے وہ بھی سنے۔ایک سپرنٹنڈنٹ اور ایک دوسرا لڑکا تھاہم میز کے نیچے چھپ گئے۔یونیوسٹی میں موجود ایک دوسرے عینی شاہد نے بھی دہشت گردوں کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ بقول ان کے وہ بہت ماہرانہ انداز میں فائرنگ کر رہے تھے۔ہم جیسے ہی یونیوسٹی میں داخل ہوئے یونیوسٹی کے داہنی طرف سے چار افراد فائرنگ کرتے ہوئے ہماری طرف آئے۔ پھر اندر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے بھی ان پر فائرنگ کی۔ جب وہ آخری عمارت میں چلے گئے تو ہم آفس گئے اور وہیں بیٹھ گئے بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی۔طالب علموں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازوں نے وہاں موجود افراد کو انتہائی خوفزدہ کر دیا تھاحملے کی صورت حال کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک طالب کا کہنا تھا کہ میرا دوست اتنا خوفزدہ ہوا کہ وہ یونیورسٹی کی عمارت سے کود کیا۔ ہم نے دیکھا کہ دہشت گرد یہاں تکبیر کے نعرے لگا رہے تھے۔کچھ طلبہ کا کہنا تھا کہ پہلے تو انھیں لگا کہ یونیوسٹی میں کوئی جھگڑا ہو گیا ہے مگر پھر گولیوں کی مسلسل آوازوں سے انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوایونیورسٹی کے عقبی حصے سے فائرنگ کی آوازیں آئیں ہم نے کہا کسی کا جھگڑا ہوا ہے۔ مگر جب فائرنگ زیادہ ہو گئی تو ہم نے سارے لڑکوں کو کہا کہ وہ کمروں سے باہر نہ نکلیں۔ ہماری یونیورسٹی کے سکیورٹی والوں اور پاکستان آرمی نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا۔عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ انھوں نے دہشت گردوں کو یونیورسٹی کی چھت سے فائرنگ کرتے دیکھا اور دھماکوں کی آوازیں سنیں۔میں نے خود تین دہشت گردوں کو دیکھا۔ ایک چھت سے فائرنگ کر رہا تھا۔ ایک ہاسٹل نمبر ون کے پاس تھامیں نے یونیورسٹی کے چار زخمی سکیورٹی گارڈوں کو دیکھا اور انھیں اٹھایا اور ایمبولینسوں میں ڈالا۔ تقریباً دو دھماکے میں نے خود سنے، وہ ہاسٹل نمبر ایک کی طرف ہوئے۔ پتہ نہیں خودکش تھے ¾گرینیڈ تھے یا کیا تھا مگر میں نے وہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…