پشاور (نیوز ڈیسک) علم کے دشمنوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کیا، حملے کے لیے دہشتگرد عقبی راستے سے یونیورسٹی میں داخل ہوئے، دہشت گردوں نے اس سے پہلے بھی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا جبکہ اے پی ایس حملے میں بھی دہشت گردوں نے اپنی مذموم کارروائی کے لیے عقبی راستہ چنا۔باچا خان یونیورسٹی اور اے پی ایس دونوں کے عقب میں رہائشی گاو¿ں موجود ہیں۔ اے پی ایس میں ا?ڈیٹوری میں میڈیکل ٹریننگ دی جا رہی تھی جبکہ باچا خان یونیورسٹی میں باچا خان کی برسی کے موقع پر مشاعرہ ہو رہا تھا۔دہشتگردوں نے اے پی ایس کی طرز پر فائرنگ کی ، طلباءکو یرغمال بنایا اور ہوسٹل میں گھس کر طلبا کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ دونوں واقعات میں طالبعلم اپنے تعلیمی کیریئر کے سنگ میل کے قریب تھے ، اے پی ایس میں میٹرک کے طلباءکو نشانہ بنایا گیا جبکہ باچا خان حملے میں ماسٹرز کے طلباءکی تعداد زیادہ ہے۔دونوں تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کو ہلاک کر کے تعلیمی ادارہ کلیئر کرایا ، دونوں آرمی آپریشن میں آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نگرانی کی گئی تاہم باچا خان یونیورسٹی میں داخل ہونے والے چاروں دہشتگردوں کی خود کش جیکٹس نہ پھٹ سکیں
باچا خان یونیورسٹی اور اے پی ایس حملے میں مماثلت
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے



















































