جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بینظیر کیس :امریکی صحافی مارک سیگل کے بیان پر جرح آج ہوگی

datetime 20  جنوری‬‮  2016 |

راولپنڈی (نیوز ڈیسک)بینظیر قتل کیس کے اہم گواہ امریکی صحافی مارک سیگل کے بیان پر جرح آج ہوگی، واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے سے وڈیو لنک کے لیے کمشنر آفس میں انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔بے نظیر بھٹو قتل کیس کے اہم گواہ کے بیان پر جرح کیلئے پرویز مشرف کے وکلاءکو نوٹس جاری کیا جا چکا ہے، مارک سیگل نے اپنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں امریکی صحافی اور اہم گواہ مارک سیگل پرآج شام 7 بجے جرح کی جائے گی،وہ اس وقت واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں ہونگے،ملزم مشرف کے وکلا کو گواہ سے جرح کیلئے راولپنڈی کے کمشنر آفس میں بھی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔مارک سیگل نے 1 اکتوبر کو وڈیو لنک کے ذریعے ہی اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا،جس میں ان کا کہناتھا کہ ایک خلیجی خفیہ ایجنسی نے کال ٹریس کی اور انکشاف ہوا کہ پرویز مشرف کے 3 قریبی ساتھی بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے ، اس پر بینظیر بھٹو نے دبئی سے پرویز مشرف کو اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں خط بھی لکھا۔مارک سیگل کے مطابق بے نظیر بھٹو کو ملنے والی دھمکیوں کے باوجود پرویز مشرف نے انہیں غیر ملکی سیکیورٹی عملہ لانے، باکس سیکیورٹی دینے اور کالے شیشوں والی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا، پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کی سیکیورٹی کیلئے موبائل جیمرز دیے، سانحہ کارساز ہوا تو پتہ چلا کہ یہ جیمرز تو ناکارہ ہیں۔مارک سیگل نے بیان میں بتایا کہ 25 ستمبر 2007 ءکو ان کے سامنے بینظیر بھٹو کو پرویز مشرف کی دھمکی آمیز کال آئی، اس موقع پر آصف علی زرداری بھی موجود تھے، پرویز مشرف کی کال سننے کے بعد بے نظیر بھٹو پریشان ہو گئیں۔مارک سیگل کے مطابق امریکی رکن کانگریس ٹام لنٹاس نے بھی بینظیر بھٹو کو پیغام دیا کہ پرویز مشرف کا اصرار ہے کہ بی بی الیکشن سے پہلے پاکستان نہ آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…