جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی حدود میں گولہ باری پرپاکستان کے احتجاج پرایران کاجواب آگیا

datetime 14  جنوری‬‮  2016 |

چاغی(نیوزڈیسک)پاک ایران ریگولر بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے گولہ باری روکنے، مجرمان کی حوالگی اور تجارتی و سفری مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا ہے، چاغی کے ایران سے متصل شہر تفتان میں منعقدہ اجلاس میں ایرانی وفد کی قیادت میر جاوا کے مرزبان کرنل نجف سفری جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ڈپٹی کمشنر چاغی خدائے نذر بڑیچ نے کی۔اجلاس میں دونوں ممالک کے سول و فوجی انتظامیہ کے حکام بھی شریک تھے۔ حکام کے مطابق اجلاس میں پاکستانی وفد نے ایرانی حدود سے پاکستانی علاقوں پر گولہ باری کا معاملہ اٹھایا اور اس سلسلے میں ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا جس پر ایرانی حکام نے کہا کہ وہ مذکورہ واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے نتائج سے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔دونوں ممالک کے حکام نے مجرمانہ کارروائیاں کرکے ایک دوسرے کی سرحدی علاقوں میں پناہ حاصل کرنے والے مجرمان کی گرفتاری اور حوالگی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ملکی قوانین اور دو طرفہ تعلقات کی روشنی میں ایسے مجرموں کی گرفتاری اور حوالگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں پاکستانی حکام کی درخواست پر ایرانی حکام نے تفتان میں قائم دو طرفہ تجارتی گیٹ زیروپوائنٹ کے کھلنے کا دورانیہ مزید دو گھنٹے بڑھا دیا جو آج کے بعد صبح دس بجے سے شام چار بجے تک کھلا رہے گا۔اجلاس میں ایرانی وفد نے پاکستانی حکام کو یقین دلایا کہ وہ راہداری کے ذریعے ایران آنے والے سرحدی اضلاع کے پاکستانی شہریوں کوتمام مطلوبہ سہولیات فراہم کریں گے لیکن اگر کسی پاکستانی کا متعلقہ ایرانی ضامن سرحد پر اسے لینے دیر سے پہنچے تو انھیں انتظار کرنا پڑے گا۔دونوں ممالک کے حکام نے دو طرفہ سرحد پر منشیات اور انسانی اسمگلنگ روکنے کے لئے مشترکہ گشت اور باہمی رابطوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…