لاہور(آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے من پسند افسران کو سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ کےخلاف کیس کی سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پنجاب حکومت کے سرکاری وکیل نے جواب عدالت میں جمع کروا تے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوابدیدی اختیارات کے تحت 725 گھر الاٹ کیے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو کس نے اختیار دیا کہ وہ سرکاری گھر افسران میں بانٹے پھریں ؟ کس قانون کے تحت وزیر اعلیٰ نے من پسند افسران میں گھر تقسیم کیے۔ عدالت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کسی جھونپڑی والے میں توگھر تقسیم نہیں کیے افسران کو ہی بانٹے ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کو جواب الجواب 22 دسمبر تک جمع کروانے کاحکم دیدیا۔ عدالت کے روبرو ایک سرکاری آفیسر محمد اکمل نے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ نہ ہونے کے اقدام کو چیلنج کر رکھا ہے۔
شہباز شریف نے کتنے گھر کس قا نو ن کے تحت من پسند افسران میں تقسیم کیے؟لاہور ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(چوتھا حصہ)
-
تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی، طلبا کے لئے اہم خبر
-
جون اور جولائی کے فیس واؤچرز! نجی اسکولوں کے لیے نیا حکم نامہ جاری
-
سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نئی شرط عائد
-
پرانی امپورٹڈ گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے ایران سے جن 8 خواتین کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا وہ کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟
-
پنجاب حکومت کا ملازمین کی تنخواہ سے متعلق بڑا فیصلہ
-
عمران خان 3 پارٹی رہنماؤں سے سخت ناراض
-
راولپنڈی میں ٹریفک جام کے باعث بس سے اتر کر نجی ہوٹل کے کمرے میں قیام کرنے والی ہوسٹس زیادتی کا نشا...
-
سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑی کمی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
قومی کرکٹر محمد نواز ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر بڑی مشکل میں پھنس گئے
-
سگے خالو کی 10 سالہ بچی سے زیادتی
-
سونے اور چاندی کی قیمت میں بڑی کمی



















































