بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سستی بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بڑا فیصلہ آگیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پہلی مرتبہ کے-الیکٹرک کے بن قاسم پاور پلانٹ کے 2 یونٹس کوئلے پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔کراچی میں پہلی مرتبہ کوئلے پر سستی ترین بجلی پیدا ہوگی، اس لیے نیپرا نے 20 سال کے لیے ٹیرف کی بھی منظوری دے دی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق دستاویز میں کوئلے پر بجلی کی پیداوار کے لیے نیپرا نے فی یونٹ ٹیرف 5روپے 41پیسے کی منظوری دی ہے۔نیپرا دستاویزات کے مطابق بن قاسم پاور پلانٹ کے 6 یونٹس میں سے 429 میگا واٹ کے یونٹ نمبر 3 اور یونٹ نمبر 4 کو کوئلے پر منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بن قاسم کول پاور یونٹس کی کوئلے پر منتقلی پر 260ملین ڈالر (27ارب روپے) کی لاگت آئے گی۔بن قاسم پاور پلانٹ کے دونوں یونٹس کی فرنس آئل سے کوئلے پر منتقلی میں2 سال 6 ماہ سے زائد کا وقت لگے گا، جس کے بعد اس سے پیدا ہونے والی بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔بن قاسم کول پاور یونٹس کے لیے ٹیرف 20سال کے لیے منظور کیا گیا ہے۔اس وقت بن قاسم کے فرنس آئل پر چلنے والے دونوں یونٹس سے بجلی 11 تا 15 روپے فی یونٹ پیدا ہوتی تھی۔واضح رہے کہ کے۔ الیکٹرک اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے درمیان نیپرا یہ معاملہ پہلے ہی طے کروا چکا ہے کہ ڈھائی سال کے دوران جب کے-الیکٹرک کے بن قاسم کے 2 یونٹس کوئلے ہر منتقل ہو رہے ہوں گے تو نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت کے الیکٹرک کو این ٹی ڈی سی نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کر رہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…