منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

20کروڑ پاکستانیوں کے منتخب نمائندوں کی حرکت نے سب کے سر شرم سے جھکا دئیے

datetime 10  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے حاضری رجسٹر کے ریکارڈ میں انکشاف ہوا ہے کہ اراکین پہلے سے زیادہ غیر حاضر ہوتے ہیں،یومیہ الاﺅنس لینے کیلئے پہلے حاضری لگاتے اور غائب ہو جاتے ہیں اور حاضری رجسٹر عام کرنا بھی ارکان کو ریگولر نہیں کر سکاجبکہ اراکین اور عملے کے لئے حاضری کے مختلف معیارات ہیں ،سیکرٹریٹ عملہ قانونی طور پر بائیومیٹرک حاضری کا پابند ہے ، اراکین کو اس کے برعکس رعایت حاصل ہے ۔ذرائع کے مطابق اگرچہ اطلاعات تک رسائی کی درخواست نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ارکان اسمبلی کے حاضری رجسٹر کو کھولنے پر مجبور کردیا ہے مگر یہ شفافیت ، کوئی احتساب نہ ہونے کے باعث، انہیں وقت کا پابند نہیں بنا سکی، بلکہ ریکارڈ کے جائزے سے انکشاف ہوا کہ وہ پہلے سے زیادہ غیر حاضر ہوتے ہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ارکان قومی اسمبلی اور اپنے عملے کیلئے مختلف معیارات ہیں، سیکرٹریٹ کا عملہ قانونی طور پر بائیو میٹرک حاضری کا پابند ہے۔ اس نظام کا مقصد غیر حاضری و تاخیر سے آمد کوروکنا ہے، اس میں کامیابی بھی ہوئی، یہ عمل ارکان پار لیمنٹ کو حاصل رعایت کے برعکس ہے، ان کی اکثریت کارروائی میں شرکت نہیں کرتی یا تھوڑی دیر کے لئے آتے ہیں، یومیہ الاﺅنس لینے کیلئے پہلے حاضری لگاتے اور غائب ہو جاتے ہیں، غیر حاضر رکن یومیہ الاﺅنس سے محروم ہو سکتا ہے مگر نہ تنخواہ نہ رکنیت سے محروم ہوتا ہے۔قواعد کہتے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہیں۔فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک کے جائزے کے مطابق تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں سے ارکان پارلیمنٹ تک ، قانون سازی کے لئے ان کی غیر متاثر کن کارکردگی ہے۔ حالانکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لئے انہوں نے ووٹ حاصل کئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنے 23ویں اجلاس سے اب تک ارکان پارلیمنٹ کے حاضری ریکارڈ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلی بار منظر عام پر لائے جانے والے 23ویں سیشن کے دوران حکمراں ن لیگ کے 189 ارکان میں سے اوسطاً 39ممبرز غیر حاضر تھے۔ مستقبل میں عوام میں منفی تاثر کے خدشہ سے بچنے کے لئے بہتری کی بجائے غیر حاضری مزید بڑھ گئی 24ویں سیشن میں اس کے 64ارکان غیر حاضر تھے۔25ویں سیشن میں 47اور 26ویں سیشن میں 72ممبرز غیر حاضر رہے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…