ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد کی نوے فیصد مساجد اور مدارس کیسے چلائے جارہے ہیں -حکومتی اثر و رسوخ و بجٹ کتناہے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 8  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تقریباً 90 فیصد مساجد ¾ اماموں یا علاقہ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جارہی ہیں ¾ جس کے باعث حکومت کا ا±ن پر کوئی اثر و رسوخ نہیں۔نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں وزارت داخلہ کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کی 957 مساجد میں سے 868 پر کوئی اثرو رسوخ نہیں رکھتی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی سرپرستی میں چلائی جانے والی 89 مساجد پر تنخواہوں کی مد میں سالانہ تقریباً 5 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں ¾ یوٹیلیٹی بلوں اور دیگر اخراجات کی مد میں بھی ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی جاتی ہے تاہم رپورٹ میں علاقہ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جانے والی مساجد سے متعلق ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔وزارت داخلہ اور کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام نے نجی ٹی وی عہ بتایا کہ نجی طور پر چلائی جانے والی مساجد کا بجٹ سرکاری مساجد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ وہاں نماز کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔حکومتی سرپرستی میں چلائی جانے والی مساجد میں اوسطاً ایک ہزار 500 افراد کی ایک وقت میں جمع ہونے کی گنجائش ہے جس میں فیصل مسجد اور لال مسجد شامل نہیں۔سی ڈی اے کے سینئر حکام کے مطابق نجی سطح پر چلائی جانے والی مساجد کی تعداد میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اضافہ ہوا جس کے بعد ان کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔وزارت داخلہ کے حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان مساجد کو اپنے نظم و ضبط کے اندر لانا حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے، تاہم انہیں مکمل آزادی بھی نہیں دی جاسکتی۔حکام کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان مساجد کی کڑی نگرانی کرے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی کئی مساجد اور امام بارگاہوں پر نفرت انگیز تقاریر کی نگرانی کےلئے پولیس کے 722 اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…