ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

صدارتی آرڈیننس کے خلاف احتجاج،پیپلزپارٹی نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کردی

datetime 7  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کارکنوں، ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کو سڑکوں پر نکلنے کی درخواست کی ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اعلی عدلیہ سے پی آئی اے کی نجکاری کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلزپرٹی کے رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈی والا نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کو خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے۔ پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدرتی آرڈیننس کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت پارلیمنٹ سے چھپ کر من مانے فیصلے کرنا چاہتی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں ہے۔ سینیتر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے فیصلے کررہی ہے۔ ایک ہی ہفتے میں دوسرا آرڈیننس جاری کردیا گیا ۔ آرڈیننس کے ذریعے پی آئی اے کو پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنی بنا دیا گیاہے۔ قومی اثاثے کو پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنی بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قومی اثاثے عوام کی ملکیت ہیں، حکومت کی جاگیر نہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکن ، ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ سپریم کورٹ اور اعلی عدلیہ سے درخوست ہے، پی آئی اے کی نجکاری کا نوٹس لیا جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر متحدہ اپوزیشن بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف سخت احتجاج کریں گی۔ سیاسی جماعتیں صدارتی آرڈیننس کے خلاف مشترکہ حکومت عملی اپنائیں گی۔ حکومت کو کسی صورت غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…