جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جرائم کی روک تھام کافی نہیں، وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر کرائم فری بنایا جائے،چوہدری نثار

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد((نیوزڈیسک)وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جرائم کی روک تھام کافی نہیں، وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر کرائم فری بنایا جائے، ڈی پورٹیز کو واپس قبول کرنے سے پہلے ان کی شہریت کی تصدیق کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے وزارتِ داخلہ کی واضح ہدایت کے بغیر کسی ڈی پورٹی کو عارضی سفری دستاویزات جاری نہ کریں اور واپس آنے والوں سے معلومات لے کرانسانی سگلروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔وزیرِداخلہ کی زیرِصدارت وزارتِ داخلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران، چیئرمین نادرا، کمشنر و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایف آئی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں امن و امان و جرائم کی صورتحال، سیف سٹی پراجیکٹ اور یورپین یونین کے ساتھ ری-ایڈمیشن معاہدے جیسے اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی موجودہ صو رتحال اور پچھلے چند سالوں کی نسبت صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔وزیرداخلہ نے پولیس کی ہدایت دی کہ امن و امان اور جرائم پر قابو پانے کے حوالے سے زیرو ٹالیرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ افسران روزانہ کی بنیاد پر جرائم کے واقعات کا جائزہ لے کر حکمت عملی ترتیب دیں اوراس کی رپورٹ پیش کریں۔ پولیس افسران اپنے متعلقہ علاقوں میں ذمہ داریوں کا واضح تعین کریں تاکہ کسی بھی واقعے کی صورت میں ذمہ داران کا تعین اور جواب طلبی ہو سکے۔پچھلے چند سالوں کی نسبت امن و امان کی صورت حال میں بہتر ی آئی ہے مگر یہ ناکافی ہے اور اس میں مزید بہتری لائی جائے ۔ جرائم کی روک تھام میں بہتری ہی کافی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر کرائم فری بنایا جائے۔پولیس عوام کے ساتھ نرم اور مجرموں کے ساتھ سخت رویہ رکھے۔ وزیرِ داخلہ نے ٹریفک پولیس کے افسران کو وفاقی دارالحکومت میں لین ڈسپلن، ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے اور مانیٹرنگ کے سسٹم کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِداخلہ کی جانب سے حال میں وقتی طور پر معطل کئے گئے یورپین یونین کے ساتھ ری-ایڈمیشن معاہدے پر بھی گفتگوکی گئی اور چوہدری نثار علی خان نے وزارتِ داخلہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ مل کر ڈی – پورٹیز کے سلسلے میں واضح حکمت عملی اور نئی ایس او پی مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ڈی پورٹیز کو واپس قبول کرنے سے پہلے ان کی شہریت کی تصدیق کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے وزارتِ داخلہ کی واضح ہدایت کے بغیر کسی ڈی پورٹی کو عارضی سفری دستاویزات جاری نہ کریں۔وزیرِداخلہ نے ایف آئی اے کو ملک بھر میں ائر پورٹس پر سپیشل سیل قائم کرنے کی ہدایت کی تاکہ ڈی پورٹیز سے مطلوبہ معلومات حاصل کی جائیں اور ان معلومات کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے میں ملوث عناصر کے خلاف مربوط اور منظم کاروائی کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…