جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کون کس کوحکم دیتاہے ؟ سینئرصحافی کاتہلکہ خیزانکشاف

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وہ چیزیں جن پر سویلین قیادت سےبندکمروں کے اجلاس میں بات کرنا چاہئے تھی وہ فوجی قیادت نے اخباری بیان کے ذریعے پہنچائی ہیں۔منگل کو کور کمانڈر کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اخبار ی بیان سے سول اور فوجی قیادت کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہونا ناگزیر ہے۔اس سے ان حلقوں کو بھی ایک موقع ملے گا جو دونوں کو ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھنے کےلیے مرے جارہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے اخباری بیان نے فوج کو سول حکومت کا سربراہ دکھایا ہے اور پھر یہ پیغام بھی میڈیا کے ذریعے دکھایا ہے کہ فوج اگرچہ دہشت گردی کے خلاف اپنے کردار سے تومطمئن ہے لیکن یہ محسوس کر تی ہے کہ سول حکومت بقدر ضرورت کام نہیں کر رہی۔آئینی فریم ورک کے تحت فوج سول حکومت کے تحت آتی ہے لیکن مذکورہ اخباری بیان سے یقیناً اس کے برخلاف نظر آتا ہے اور یہ سوال ابھرتا ہے کہ کون کس پر کمانڈ رکھتا ہے؟وہ چیزیں جو سول فوج عدم توازن کے حوالے سے کہی جارہی تھیں یا جن کے بارے میں غیر رسمی طور پر خیال آرائی جاری تھی آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز نے رسمی طور پر بلند آہنگی سے اس کی توثیق کرڈالی ہے۔پریس ریلیز میں آرمی چیف کے حوالےسے فوجی آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ تاہم انہوں نے اس سے ملتے جلتے یا انہیں مکمل کرنے کے حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آپریشن کے طویل مدتی فوائد حاصل ہوسکیں اور ملک میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ، فاٹا میں اصلاحات کی حتمی شکل دینے ،دی نیوزکے ایڈیٹرانصارعباسی کے ایک تجزیہ کے مطابق تمام جاری جے آئی ٹیز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے جیسے معاملات کو نمایاں کی گیاجو کہ آپریشن کے نتائج کو کم کر سکتے ہیں۔یقین سےن ہیں کہاجاسکتا کہ فوج نے یہ سب کچھ کھلے عام کہنے کا آپشن کیوں اختیار کیا
مزید پڑھئیے: ذولفقار مرزا کے آصف زرداری کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ جو آپ کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیں گے
اور وہ بھی وزیر اعظم کے ساتھ آرمی چیف اور ان کے اعلیٰ مشیروں کی ملاقات کے 24گھنٹوں کے اندر اندر۔فوج کو یہ سب کچھ بندکمرے کے اجلاس میں زیر بحث لانا چاہئے تھا بجائے اس کے کہ اس معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری کیاجائے جس سے اس سول قیادت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے جو کہ آئین کے تحت سربراہی کا اعلیٰ ترین رول رکھتی ہے۔آئینی اور قانونی سوالات اٹھانے کے علاوہ فوجی کمانڈ کی جانب سے ان سخت بیانات سے بمشکل ہی سول اور فوجی قیادتوں کے مابین ان مقاصد کے حصول کےلیے بہتر رابطہ کاری میں کوئی مدد مل پائے گی جن کا فیصلہ دونوں نے باہمی طور پر کیا تھا۔ اس کے بجائے اس بیان سے تو غلط فہمیاں جنم لیں گی جو کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو سنگین نقصان پہنچائیں گی۔حکمرانی کے حوالے سے بلاشبہ معاملات موجود ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں نقائص بھی ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جو کچھ اب تک حاصل کیا گیا ہے وہ بے مثال ہے اور یہ سب کچھ فوج اور سویلین سائڈ بشمول حکومت، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ان پٹ کا نتیجہ ہے۔اگر پاک فوج لڑائی کے علاقوں میں بہتر کردار ادا کر رہی ہے اور بڑی قربانیاں دے رہی ہے تو پارلیمنٹ نے بھی21ویں آئینی قرار داد منظور کرکے اپنا کردا ادا کیا ہے۔ سول قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی اور فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا جبکہ سپریم کورٹ نے بھی ان عدالتوں کے قیام کی توثیق کر دی۔تمام اداروں کی جانب سے اس کردار کی وجہ سے ہی وہ غیر معمولی کامیابیاں ممکن ہوئیں جن سے کراچی اور بلوچستان میں امن آیا اور دہشت گردی کی روک تھام ممکن ہوئی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سےوزیر اعظم ہر موقع پر فوج اور اس کی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں خواہ ملک کے اندر کوئی فورم ہویا کوئی بین الاقوامی فورم ہو ایسے میں یقین سے نہیں کہاجا سکتا کہ آئی ایس پی آر کے اخباری بیان کا ہدف کون ہے لیکن اس نے وزیر اعظم کے لیے شرمندگی کی کیفیت پیدا کر دی ہے جو کہ ملک کے چیف ایگزیکتو ہیں۔حکمرانی کے معاملات اور عشروں کی غلط کاریاں راتوں رات ٹھیک نہیں ہوسکتیں۔ حکومت چیزوں کو درست سمت میں لے جانے کے حوالے سے سست ہوسکتی ہے جس کے باعث فوج کو معاملات میں تیز ی لانے کےلیے دبائوڈالنا ہی چاہئے لیکن یہ کھلے عام نہیں ہونا چاہئے بند دروازوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔
اعجاز خان کے اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…