اسلام آباد(نیوزڈیسک) وہ چیزیں جن پر سویلین قیادت سےبندکمروں کے اجلاس میں بات کرنا چاہئے تھی وہ فوجی قیادت نے اخباری بیان کے ذریعے پہنچائی ہیں۔منگل کو کور کمانڈر کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اخبار ی بیان سے سول اور فوجی قیادت کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہونا ناگزیر ہے۔اس سے ان حلقوں کو بھی ایک موقع ملے گا جو دونوں کو ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھنے کےلیے مرے جارہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے اخباری بیان نے فوج کو سول حکومت کا سربراہ دکھایا ہے اور پھر یہ پیغام بھی میڈیا کے ذریعے دکھایا ہے کہ فوج اگرچہ دہشت گردی کے خلاف اپنے کردار سے تومطمئن ہے لیکن یہ محسوس کر تی ہے کہ سول حکومت بقدر ضرورت کام نہیں کر رہی۔آئینی فریم ورک کے تحت فوج سول حکومت کے تحت آتی ہے لیکن مذکورہ اخباری بیان سے یقیناً اس کے برخلاف نظر آتا ہے اور یہ سوال ابھرتا ہے کہ کون کس پر کمانڈ رکھتا ہے؟وہ چیزیں جو سول فوج عدم توازن کے حوالے سے کہی جارہی تھیں یا جن کے بارے میں غیر رسمی طور پر خیال آرائی جاری تھی آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز نے رسمی طور پر بلند آہنگی سے اس کی توثیق کرڈالی ہے۔پریس ریلیز میں آرمی چیف کے حوالےسے فوجی آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ تاہم انہوں نے اس سے ملتے جلتے یا انہیں مکمل کرنے کے حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آپریشن کے طویل مدتی فوائد حاصل ہوسکیں اور ملک میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ، فاٹا میں اصلاحات کی حتمی شکل دینے ،دی نیوزکے ایڈیٹرانصارعباسی کے ایک تجزیہ کے مطابق تمام جاری جے آئی ٹیز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے جیسے معاملات کو نمایاں کی گیاجو کہ آپریشن کے نتائج کو کم کر سکتے ہیں۔یقین سےن ہیں کہاجاسکتا کہ فوج نے یہ سب کچھ کھلے عام کہنے کا آپشن کیوں اختیار کیا
مزید پڑھئیے: ذولفقار مرزا کے آصف زرداری کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ جو آپ کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیں گے
اور وہ بھی وزیر اعظم کے ساتھ آرمی چیف اور ان کے اعلیٰ مشیروں کی ملاقات کے 24گھنٹوں کے اندر اندر۔فوج کو یہ سب کچھ بندکمرے کے اجلاس میں زیر بحث لانا چاہئے تھا بجائے اس کے کہ اس معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری کیاجائے جس سے اس سول قیادت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے جو کہ آئین کے تحت سربراہی کا اعلیٰ ترین رول رکھتی ہے۔آئینی اور قانونی سوالات اٹھانے کے علاوہ فوجی کمانڈ کی جانب سے ان سخت بیانات سے بمشکل ہی سول اور فوجی قیادتوں کے مابین ان مقاصد کے حصول کےلیے بہتر رابطہ کاری میں کوئی مدد مل پائے گی جن کا فیصلہ دونوں نے باہمی طور پر کیا تھا۔ اس کے بجائے اس بیان سے تو غلط فہمیاں جنم لیں گی جو کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو سنگین نقصان پہنچائیں گی۔حکمرانی کے حوالے سے بلاشبہ معاملات موجود ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں نقائص بھی ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جو کچھ اب تک حاصل کیا گیا ہے وہ بے مثال ہے اور یہ سب کچھ فوج اور سویلین سائڈ بشمول حکومت، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ان پٹ کا نتیجہ ہے۔اگر پاک فوج لڑائی کے علاقوں میں بہتر کردار ادا کر رہی ہے اور بڑی قربانیاں دے رہی ہے تو پارلیمنٹ نے بھی21ویں آئینی قرار داد منظور کرکے اپنا کردا ادا کیا ہے۔ سول قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی اور فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا جبکہ سپریم کورٹ نے بھی ان عدالتوں کے قیام کی توثیق کر دی۔تمام اداروں کی جانب سے اس کردار کی وجہ سے ہی وہ غیر معمولی کامیابیاں ممکن ہوئیں جن سے کراچی اور بلوچستان میں امن آیا اور دہشت گردی کی روک تھام ممکن ہوئی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سےوزیر اعظم ہر موقع پر فوج اور اس کی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں خواہ ملک کے اندر کوئی فورم ہویا کوئی بین الاقوامی فورم ہو ایسے میں یقین سے نہیں کہاجا سکتا کہ آئی ایس پی آر کے اخباری بیان کا ہدف کون ہے لیکن اس نے وزیر اعظم کے لیے شرمندگی کی کیفیت پیدا کر دی ہے جو کہ ملک کے چیف ایگزیکتو ہیں۔حکمرانی کے معاملات اور عشروں کی غلط کاریاں راتوں رات ٹھیک نہیں ہوسکتیں۔ حکومت چیزوں کو درست سمت میں لے جانے کے حوالے سے سست ہوسکتی ہے جس کے باعث فوج کو معاملات میں تیز ی لانے کےلیے دبائوڈالنا ہی چاہئے لیکن یہ کھلے عام نہیں ہونا چاہئے بند دروازوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔
اعجاز خان کے اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کے متعلق تہلکہ خیز انکشافات
کون کس کوحکم دیتاہے ؟ سینئرصحافی کاتہلکہ خیزانکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
طالبہ فراڈ کیس میں اہم پیشرفت، گرفتار ملزم کے اہم انکشافات
-
لائبہ اعجاز کو اعلیٰ تعلیم کا جھانسہ دینے والا گینگ گرفتار،نعمان، فاطمہ سرور اور عائزہ شامل
-
ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی



















































