جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

گوادر کو”ہتھیاروں سے پاک “شہر بنانے کا فیصلہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستانی اورچینی حکام کے درمیان گوادر میں ایک اجلاس ہوا جس میں چینی انجینئروں اور ورکروں کی سکیورٹی سمیت گوادربندرگاہ اور اطراف کی سکیورٹی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی جانب سے میجر جنرل اظہر نوید، سیکریٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی، بریگیڈیئر شہزاد افتخار بھٹی، بریگیڈیئر ثاقب، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر سجاد حسین جبکہ چین کی جانب سے چین کی وزارت پبلک سکیورٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کیو یو جن گنگ اور چین کی وزارت خارجہ کے دو سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر کو ”ہتھیاروں سے پاک‘ “شہر بنایا جائے گا جبکہ شہر میں مختلف ترقیاتی اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چین کے سرمایہ کاروں، انجینئروں، اور ماہرین کی سکیورٹی کےلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائےں گے۔شرکائ نے سکیورٹی سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں۔اجلاس کے شرکائ کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوادر میں رہنے والے مقامی افراد کو رہائشی کارڈ جاری کئے جائے گے اور دیگر علاقوں سے آنے والوں کی رجسٹریشن شہر کے داخلی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں پر کی جائے گی اور اس کا ریکارڈ برقرار رکھا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…