بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

کالاباغ ڈیم،وہ دور گزر چکا جب کابل میں طالبان تخت پر بٹھائے جاتے تھے ،اسفندیارولی خان کے صبر کا پیمانہ لبریز

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور( نیوزڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ، پاک چائنا کاریڈور ، افغانستان کے امن ، دہشتگردی اور فاٹا کے اصلاحات جیسے بنیادی ایشوز پر اے این پی کی پالیسی بالکل واضح اور اٹل ہے اور ان معاملات پر پختونوں اور صوبے کے مفادات کا ہر صورت اور ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا۔باچا خان مرکز میں اے این پی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کے علاوہ اندرونی طور پر بہت سے خطرات لاحق ہیں اور ملک واقعتاً بہت پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہا ہے تاہم بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور بعض ادارے اب بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خواہش مند ہیں اور کاریڈور کے ایشو پر بھی نوازشریف سمیت بہت سے حلقے صرف پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ماضی کے بہت سے طاقتور اور بااختیار حکمران نہ بنا سکے تو موجودہ حکمرانوں کی کیا اوقات ہے کہ اس کی تعمیر کی جرا ت کریں ۔ اگر کسی نے ایسی کوئی جرا ¿ت کی تو ہم صوبے کے مفاد میں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔کاریڈور کے ایشو پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان کی طرح وزیر اعظم نوازشریف بھی اپنی پالیسیوں اور اعلانات پر یوٹرن لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ اور ان کے وزراءاے پی سی کے اس متفقہ فیصلے کی روگردانی کر رہے ہیں جس کے مطابق کاریڈور کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز ہونا تھا اورجس سے صوبہ پختونخوا کے مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ایک بار یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پنجاب ہی پاکستان اور پاکستان ہی پنجاب ہے۔ اگر یہ رویہ تبدیل نہیں کیا گیا اور مخصوص ذہنیت کے ذریعے پاکستان کو چلایا جاتا رہا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج اور اثرات مرتب ہونگے۔ پاکستان ایسی غلطیوں کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن سے پاکستان اور خطے کا امن اور استحکام مشروط ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا جو ماحول بن گیا تھا بوجوہ وہ قائم نہ رہ سکا۔ لگ یہ رہا ہے کہ بعض حلقے اب بھی پرانی روش اور پالیسیوں پر چل رہے ہیں تاہم یہ بات واضح کرنا بہت لازمی ہے کہ اگر افغانستان کیلئے امن لازمی ہے تو پاکستان کو امن کی دُگنی ضرورت ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ وہ دور گزر چکا ہے جب طالبان یا ایسے دیگر عناصر کو



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…