بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا،تین بڑے افسران کو جیل بھیج دیاگیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)احتساب عدالت نے کرپشن اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میںگرفتاردو وائس چانسلرز سمیت نجی میڈیکل کالج اور ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری آتھارٹی کے سابق چیئرمین کوچودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دینے کے احکامات جاری کردیئے۔گزشتہ روز قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شعبہ تعلیم سے وابستہ چار انتہائی اہم عہدوں پر فائز ماہرین تعلیم کو حراست میں لے لیاتھا۔گرفتار ملزمان میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلر اور خیبر پختونخوا میں شعبہ تعلیم کی اہم شخصیت پروفیسر ڈاکٹر احسان ، ہزارہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سخاوت شاہ، سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری آتھارٹی پروفیسر ہمایون ضیاءاور ایبٹ آباد میں نجی میڈیکل کالج نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عزیز خان شامل ہیں۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعل سازی کے ذریعے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز کی پی ایم ڈی سی کے ساتھ الحاق میں مدد فراہم کی اور طلباءو طالبات سے اس مبینہ جعلی میڈیکل کالج میں داخلے دلوانے کے نام پر ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد کی رقم ہتھیا لی ہے۔ ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی اداروں کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی وجہ سے خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔بدھ کے روز گرفتارملزمان کواحتساب عدالت کے جج ابراہیم خان کے سامنے پیش کیاگیا،نیب نے ملزمان سے مزیدتفتیش کےلئے جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی ،دلائل مکمل ہونے پر احتساب عدالت نے گرفتارچاروں ملزمان کوچودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دینے کے احکاما ت جاری کردیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…