ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

تنویر زمانی نے بس نہیں کرنی۔۔۔

datetime 6  جولائی  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر تنویر زمانی نے کہا ہے کہ 9 جولائی کو امریکہ واپسی شیڈول تھی لیکن اب قیام بڑھانے بارے غور کر رہی ہوں ،سمجھ نہیں آتی میڈیا میرے شادی کی خبروں کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے ،میں 1986ءمیں نکاح کر چکی ہوں اور میرا نکاح بھٹو ازم سے ہوا ہے ،اگر میں نے عزیر احمد بلوچ سے ماں کا رشتہ استوار کیا ہے تو میں اس رشتے کو نبھاﺅں گی اور تحقیقی اداروں سے بھی کہتی ہوں کہ وہ شفاف تحقیقات کریں ،مجرم ثابت ہوا تو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گی ،آصف علی زرداری کے سامنے تمام سیاستدان سیاسی نا بالغ ہیں ،سیاست میں آنے والی خواتین سے کہتی ہوں کہ وہ تمام بندھن توڑ کر سیاست میں آئےں۔ انٹرویومیں گفتگو کرتے ہوئے ڈا کٹر تنویر زمانی نے کہا کہ میں نے بھٹو کے مزار پر ہاتھ رکھ کر پارٹی کے منشور میںتین ترامیم کی بات کی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں تمام جماعتوں کی ضرورت ہے ۔ مجھے پارٹی میں کسی عہدے کی خواہشمند نہیں ۔ میں پاکستان میں بجھتے ہوئے چراغوں کو روشنی دینے آئی ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ ا گر میں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہوں تو یہ میری بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے بعض پارٹی رہنماﺅں کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی میں چاہے جسے عہدہ ملا ہے یا نہیں ملا مایوسی بڑھی ہے اور جس میں جیالا پن ہے اس میں بھی مایوسی سرائیت کر رہی ہے میں اس کے لئے بھی آئی ہوں ۔ انہوںنے ایک ملزم کو بیٹا کہنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کا ہر نوجوان میرا بیٹا ہے ۔ اگر میں نے عزیر بلوچ کو بیٹا کہا ہے تو میں اس رشتے کو بر قرار رکھوں گی او رنبھا کر دکھاﺅں گی ۔ میں تحقیقات کرنے والے اداروں سے بھی کہتی کہ شفاف تحقیقات کریں ۔اگر عزیر بلوچ مجرم ثابت ہوا تو اسے اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ میری آصف علی زرداری سے پہلی ملاقات 2009ءمیں واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی تھی ۔ اپنی شادی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا نکاح 1986ءمیں ہو چکا ہے او رمیرا نکاح بھٹو ازم سے ہواہے ۔ میں سیاست میں آنے والی ہر عورت سے کہتی ہوں کہ اگر اس طرف آنا چاہتی ہے تو وہ سارے بندھن توڑ کر آئے تاکہ اسے پھر اپنے باپ کو علاج کے لئے لندن نہ بھجوانا پڑے ۔ اپنے خاوند کو وزیر خزانہ نہ بنوانا پڑے کیونکہ اگر وہ رشتے ساتھ لے کر آئی تو اسے اپنے شوہر ،سسر اور نند کا دباﺅ برداشت کرنا پڑے گا او رمیں ان سب سے آزاد ہوں ۔ڈاکٹر تنویر زمانی نے سجاول نامی شخص بارے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک خیالی کردار ہے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…