بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سینکڑوں سرکاری گاڑیوں کے پراسرار طور پر غائب ہونے کااسکینڈل

datetime 1  جولائی  2015 |
New cars are seen at a manufacturer's open air car park in Kuala Lumpur, Malaysia, Monday, Jan. 20, 2014. Malaysia's government unveiled Monday a new auto policy, offering incentives and easing curbs on the production of small, energy-efficient cars as it vies for investment with neighboring rivals Thailand and Indonesia. (AP Photo/Daniel Chan)

کراچی(نیوزڈیسک)حکومت سندھ کی 600 سے زائد سرکاری گاڑیوں کے پراسرار طور پر غائب ہونے کے اسکینڈل میں مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں۔لاپتہ سرکاری گاڑیاں بااثر سیاستدانوں اورریٹائرڈ بیوروکریٹس کے قبضے میں ہیں ۔تفصیلات کے مطابق لاپتہ600 سرکاری گاڑیاں غائب ہونے اور غیر مجاز شخصیات کے استعمال کرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن نے اپنی تعیناتی کے فوری بعد عرصہ دراز سے غائب سرکاری گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لئے سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ساجد جمال ابڑو کو ٹاسک سونپا تھا۔تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ سرکار کی سینکڑوں گاڑیاں صوبے کے بااثر افراد ،طاقتور شخصیات، بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ افسران نے غیرقانونی طور پر اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہیں جن کے استعمال کی وجہ سے حکومت سندھ کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔جن مشہور طاقتور شخصیات، سرکاری افسران کو گاڑیاں واپس کرنے کے لئے کہا گیا ہے ان میں مسلم لیگ( ن) کی سینیٹر راحیلہ مگسی ،گاڑی نمبر جی ایس 7293، پیپلزپارٹی کی سینیٹرالماس پروین گاڑی نمبرجی ایس اے 072 ،سابق چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک دو گاڑیاں جی ایس اے 091 اور جی ایس بی 870 ،رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی جی ایس 9547 ،ایم این اے ڈاکٹر فاروق ستارجی ایس985، سابق نگران صوبائی وزیر شکیب قریشی جی ایس اے 721 ،سینیٹر سعید غنی جی ایس 5431 ،خاتون رکن اسمبلی کلثوم چانڈیو کے نام پر دی گئی گاڑی نمبرجی ایس6514 چوری ہوچکی ہے ۔اکاﺅنٹس گروپ کے آفیسر مجاہد شیخ جی ایس7469،بلاول ہاﺅس کے کوآرڈینیٹر احمد فہیم مغل جی ایس4920، بے نظیر بھٹو کے گارڈ خالد شہنشاہ کے بھائی حیدر شہنشاہ جی ایس 7325 ،ڈاکٹر شائستہ تسنیم آر ایم او سول اسپتال کراچی جی ایس 7317، نظام الدین ایگزیکٹیو انجینئر ورکس،جی ایس 6154، اعجاز کھتری رجسٹرار کو آپریٹیو سوسائٹی جی ایس9563 سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…