منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

سندھ:914 وی آئی پیزکی حفاظت کیلئے ساڑھے3 ہزار پولیس اہلکار تعینات

datetime 30  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سندھ میں ہزاروں پولیس اہلکار حکمرانوں اور وی آئی پیزکی حفاظت کرتے ہیں۔ کراچی میں 914 وی آئی پیز نے 3523 پولیس گارڈز اور160 پولیس موبائلز پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ پولیس گارڈز رکھنے والوں میں سندھ کی 36 حکومتی اور دیگرشخصیات شامل ہیں۔سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی حفاظت کے لئے 13 اہلکار اور ایک پولیس موبائل جبکہ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کے لئے 17 اہلکار اور ایک پولیس موبائل وقف ہیں۔وزراء میں سب سے زیادہ پولیس گارڈز وزیر اطلاعات شر جیل انعام میمن کے پاس ہیں جن کی تعداد 28 ہے اور ان کے ساتھ 3 موبائلیں ہمہ وقت دوڑنے کے لئے تیار رہتی ہیں۔ ورکس اینڈ سروسز کے وزیر میر ہزار خان بجارانی کے ساتھ 19 اہلکار اور 2 موبائلیں تعینات ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون برائے ثقافت و سیاحت شرمیلا فاروقی کے پاس 16 اہلکار اور ایک پولیس موبائل موجود ہیں۔صوبائی وزیر کچی آبادی جاوید ناگوری نے 14 اہلکار اور دوپولیس موبائلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔جیل خانہ جات کے
مزید پڑھیے: جاپان کی مشہور بلی مر گئی، آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی شرکت
وزیر منظور وسان اور تعلیم کے وزیرنثار کھوڑوکے ساتھ 14 ،14 پولیس اہلکار اور ایک ، ایک پولیس اہلکار ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔ اوسطاً ہر اہلکار 20 ہزارروپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے۔3523 پولیس اہلکاروں کو تنخواہ کی مد میں ماہانہ 7 کروڑ4 لاکھ روپے جبکہ سالانہ 84 کروڑ55 لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ ان962 شخصیات کے ساتھ 3523پولیس اہلکاروں کے علاوہ 160 پولیس موبائلز دوڑتی ہیں۔ہر پولیس موبائل کوروزانہ اوسطا10 لیٹریعنی 300 لیٹرماہانہ پیٹرول بھی ملتا ہے جس کی ماہانہ مالیت41 لاکھ 81 ہزارروپے جبکہ سالانہ مالیت5 کروڑ1 لاکھ روپے بنتی ہے۔ہر پولیس موبائل کی قیمت20 لاکھ سے زائد ہے اور 160 پولیس موبائلز کی مجموعی قیمت 32 کروڑروپے بنتی ہے۔ہر گاڑی کی دیکھ بھال پراوسطا ماہانہ10 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں یعنی 160 پولیس موبائلز پر ماہانہ16 لاکھ روپے اور سالانہ 1 کروڑ 92 لاکھ لاگت ا?تی ہے۔ان تمام اعدادوشمار کو جمع کرلیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ 3523افراد کی سیکورٹی پر ماہانہ7 کروڑ61 لاکھ روپے اور سالانہ91 کروڑ41 لاکھ وپے سے زائد خرچ کئے جاتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…