بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پچاس ارب روپے کی خطیر رقم سے تیار ہونے والا میٹرو بس منصوبہ اپنی افادیت کھونے لگا

datetime 30  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن)پچاس ارب روپے کی خطیر رقم سے تیار ہونے والا میٹرو بس منصوبہ اپنی افادیت کھونے لگا ہے،جڑواں شہروں کیلئے شروع کیا جائے والا میٹرو بس منصوبہ تھوڑی سی بارش کے بعد چند گھنٹوں کیلئے بند ہوگیا،24اسٹیشنوں پر بننے والے بیت الخلاء سے پانی اور نلکے غائب ہوگئے،سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث دہشتگردوں کو دہشتگردی کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کیلئے شروع کیا جانے والا منصوبہ میٹرو بس سروس ناقص منصوبہ بندی اورمؤثر حکمت عملی نہ ہونے کے باعث اپنی افادیت کھوتا جارہا ہے،چند روز قبل جڑواں شہروں میں ہونے والی بارش کے بعد میٹرو کے24میں سے چودہ اسٹیشن ایسے تھے کہ جنکے داخلی اور خارجی راستوں کی عام اور الیکٹرک سیڑھیوں پر پانی چڑھ جانے کے باعث مسافر میٹرو اسٹیشن میں کئی گھنٹے داخل نہ ہوسکے جبکہ اسی طرح ان اسٹیشنوں پر بنے ہوئے بیت الخلاء میں پہلے دن سے پانی کی عدم دستیابی کے باعث مسا فروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جسکے بعد اب ان بیت الخلاء سے سیکورٹی نہ ہونے کے باعث نلکے اور پانی کے پائپ بھی چوری ہوگئے ہیں۔ان اسٹیشنوں پر آن لائن سے مسافروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت دہشتگردی کی بڑی واردات ہوسکتی ہے،پچاس ارب روپے کے ٹیکسوں کی رقم سے تیار ہونے والا اور ماہانہ پانچ کروڑ روپے کے خسارے سے چلنے والی میٹرو بس کے افتتاح کے صرف ایک ماہ بعد ہی کئی بسوں میں مکینیکل مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ روٹ پر چلنے والی68میٹرو بسوں میں سے تیرہ بسیں ڈپو میں ہی کھڑی ہیں جو کہ فنی خرابی کے باعث روٹ پر نہیں چل رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…