کراچی(نیوزڈیسک بھارت کی طرف سے ایم کیو ایم کو پاکستان کے حالات خراب کرنے کےلئے دی جانے والی فنڈنگ سے متعلق رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز نے کہا ہے کہ وہ اپنی خبر کی صداقت پر قائم ہوں‘کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتا جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں‘میرے ذرائع معتبر ہیں‘زیادہ تر اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتا ہوں‘ایم کیو ایم سے کوئی دلچسپی نہیں ‘وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہوں‘ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہوںجو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ جمعرات کی شب اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اون بینٹ جونز نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس طرح کی رپورٹ سنجیدہ معاملہ ہے، وہ کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتے جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں، انہوں نے اپنی خبر میں بھی لکھا کہ ان کے ذرائع معتبر ہیں۔ اس سوال پر کہ ان کی زیادہ تر رپورٹنگ ایم کیو ایم کے حوالے سے ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ جو رپورٹنگ کی وہ متحدہ کے بارے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتے ہیں، ایم کیو ایم کے بارے میں آج تک جو بھی لکھا وہ 10فیصد بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن میں صحافیوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے، وہ ہی نہیں دیگر صحافی بھی ایم کیو ایم پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا انہیں اپنی خبر کے ذرائع پر مکمل یقین ہے انہوں نے کہا کہ وہ ذرائع کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے تاہم اپنی رپورٹ میں دی گئی معلومات پر مکمل یقین ہے اور اپنی خبر پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ ایم کیو ایم کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس معاملے میں کوئی کیس ہوگا یا نہیں، اگر مقدمہ درج کیا گیا تو اس میں بھی نہیں جانتا کہ عدالت میں کیا ہوگا یا کون سا مواد بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ پر بھارتی موقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارتی ردعمل یہ تھا کہ بی بی سی کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں، ان کا براہ راست جواب یہ تھا کہ یہ بے بنیاد خبر ہے۔ بھارتی حکام نے سوالات کا جواب دینے کی بجائے صرف تبصرہ کیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ سٹوری کا فالو اپ یا مزید تفصیلات بھی دیں گے، جونز نے کہا کہ انہیں ایم کیو ایم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اور ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہیں جو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ ان کا ایم کیو ایم کے معاملے پر مزید مواد سامنے لانے کا کوئی ارادہ نہیں، وہ مزید کئی ایشوز پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنی خبر کے ذرائع پر قائم ہیں، اس پر جونز نے کہا کہ اپنی خبر کے ذرائع پر یقین نہ ہوتا تو نشر بھی نہ کرتے۔ بی بی سی خبروں کا سنجیدہ ادارہ ہے جو خبروں کی بہت زیادہ تصدیق کرتا ہے۔ وہ اپنی رپورٹ سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم رپورٹ پر مکمل طور پر قائم ہیں۔
بھارت کی ایم کیو ایم کو فنڈنگ بارے رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز کا تہلکہ خیزانٹرویومنظر عام پر آگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا



















































