بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت کووفاق کی میٹرو بس منصوبے کی پیشکش

datetime 22  جون‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پشاور میں میٹر و بس کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس کے بجائے چمکنی سے حیا ت آباد تک ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبے کیلئے موجودہ ریلوے ٹریک کے ساتھ ریلوے کی اضافی اراضی صوبائی حکومت کو لیز پر فراہم کرے ۔پیر کے روز صوبائی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی بخت بیدار کی کٹوتی کی تحریک کے جواب میں وزیراعلیٰ نے پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کو فاسٹ ٹریک ریلوے سسٹم سے منسلک کرکے چاروں اضلاع کے عوام کو بین الاضلاعی سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے اُنہوں نے کہا کہ اس نظام کیلئے ان اضلاع میں موجودہ ریلوے ٹریک کو ہی استعمال میں لایا جا سکتا ہے جو فی الحال بے کار پڑا ہے اُنہوں نے کہا کہ پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کو ریلوے ٹریک کے ذریعے ملاکر فاسٹ ٹریک ٹرین چلائی جا ئے تو سفری سہولیات کااس سے بہتر اور جدید منصوبہ کوئی نہیں ہو گا اُنہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی فیزبلٹی کیلئے سروے کاکام جلد شروع کیا جارہا ہے اور وفاقی حکومت قابل عمل ہونے کی صورت میں اس منصوبے پر اگر آمادہ ہو جائے تو صوبائی حکومت اپنے وسائل سے یہ منصوبہ مکمل کرنے کیلئے تیار ہے پرویز خٹک نے کہا کہ پشاور میں میٹرو بس شروع کرنے پر کم ازکم 45 ارب روپے اور ہر سال چار یا پانچ ارب روپے کی سبسڈی درکار ہو گی جو ہمار ا غریب صوبہ برداشت نہیں کر سکتا اُنہوں نے کہا کہ اس کے بجائے وفاقی حکومت اگر چمکنی سے حیا ت آباد تک ریلوے ٹریک کے ساتھ موجود اراضی ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے صوبائی حکومت کو فراہم کردے تو 25 کلومیٹر ماس ٹرانزٹ سسٹم دس بارہ ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو سکتا ہے اور اس سے پورے پشاور کو سفر کی بہترین سہولیات میسر آئیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…