منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرپشن میں ملوث سندھ کی اہم شخصیات اور سرکاری افسروں نے ملک سے بھاگنا شروع کردیا

datetime 20  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کرپشن میں ملوث سندھ کی اہم شخصیات اورسرکاری افسروں نے ملک سے بھاگنا شروع کردیا ہے،کئی افسر لمبی چھٹی لے کرروپوش ہوگئے ہیں ایک نے توبیرونِ ملک سے ہی استعفیٰ بھجوادیا ہے۔تفصیلات کے مطابق رینجرزنے سندھ کے کرپٹ مافیا پرہاتھ کیا ڈالا کرپشن میں ہاتھ اورمنہ سیاہ کرنے والے اب سیاہ پردوں میں چھپنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بعض نے توگناہ بخشوانے کے لئے عمرے پرجانے کے لئے چھٹی مانگ لی ہے۔جب سے سندھ حکومت کے کرپشن میں ملوث افراد کےخلاف نیب کی کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ ہوا ہے زراعت، بلدیات،صحت ،آبپاشی کے حکام اور کئی تعلقہ میونسپل افسروں کے گرفت میں آنے کے امکانات ہیں۔ذرائع کے مطابق جن افسروں کی جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے، ان میں سابق صدرآصف علی زرداری کے بہنوئی اورسیکرٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکا پہلا نمبر ہے وزیراعلی سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری گھورخان،ایڈمنسٹریٹرکراچی ثاقب سومرو،سیکرٹری فنانس سہیل راجپوت اورایڈیشنل سیکرٹری فنانس خیر محمد کلوڑوکو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔سابق سیکرٹری قاضی شاہد پرویزاور سابق ممبرایف بی آرشاذر شمعون بھی گرفتاری کے ڈر سے بیرون ملک کھسکنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔کرپشن میں ملوث محکمہ اطلاعات کے ایک افسرشاہ رخ جن کے والد سابق رکنِ صوبائی اسمبلی تھے نے تھائی لینڈ سے ہی استعفیٰ بھجوادیا ہے۔ان پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جن وزرا، ارکانِ اسمبلی اوراعلی افسروں نے عمرے پر جانے کا پروگرام بنایا ہے، ان میں نواب منظوروسان، جام خان شورو،اور جام مہتاب ڈاہر شامل ہیں دوسری طرف ارم خالد،علی نواز مہر،مکیش کمار چاولہ اور امداد پتافی دبئی جانے کیلئے پرتول رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…