جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سوات میں استاد کی فائرنگ سے شاگرد ہلاک

datetime 11  جون‬‮  2015 |

سوات(نیوزڈیسک)پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں اساتذہ کو مسلح رہنے کی ہدایت کی تھیپاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس حکام کے مطابق ایک استاد کے ہاتھوں اتفاقیہ گولی چلنے سے پانچویں جماعت کا طالب علم ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس نے استاد کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ جمعرات کی صبح نو بجے کے قریب سنگوٹا کے علاقے میں ا±س وقت پیش آیا جب سکول ٹیچر ماجد کلاس روم کے اندر پستول صاف کر رہے تھے۔اس دوران ان کا پستول چل گیا اور گولی طالب علم معاذ کو جا لگی، جن کی عمر 12 سال تھی۔منگلور تھانے کے ایس ایچ او نصیر خان نے بتایا کہ بظاہر فائرنگ کا یہ واقعہ اتفاقی حادثہ لگتا ہے، تاہم پولیس نےاس سلسلے مزید تحقیقات کر رہی ہیں۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ ا±ن کا بیٹا اس استاد کی شکایت کیا کرتا تھا۔خیال رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے بھر کے سکولوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کرنے ساتھ ساتھ اساتذہ کو مسلح رہنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد اساتذہ اپنے دفاع کے لیے اسلحہ سکول لاتے ہیں۔سوات میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں سکول کے اندر استاد کی فائرنگ سے طالب علم ہلاک ہوا ہے۔سوات میں ایجوکیشن افسر ذوالفقار علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے سکیورٹی خدشات اور سکولوں کی حفاظت کے لیےاسلحہ ساتھ رکھنے کی ہدایت کی ہے تاہم ایسے تعلیمی اداروں کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے جہاں اسلحے سے بچوں کو نقصان پہنچے۔انھوں نے بتایا کہ ایسے تعلیمی اداروں کے خلاف پرائم لیول کے کیس بنائے جائیں گے۔ہلاک ہونے والے طالب علم کے والد سردارعلی نے بتایا: ’استاد میرے بیٹے کو ہر وقت تنگ کرتا تھا اور میں نے سکول کے پرنسپل سے استاد کی شکایت بھی کی تھی۔ تاہم میرے سکول سے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد میرے بیٹے کو قتل کیاگیا۔ مجھے اپنے بیٹے کی ہلاکت کی وجہ معلوم نہیں ہے لیکن پولیس کی تحقیقات سے ہی حقائق سامنے آئیں گے۔‘سوات میں ’پیس فار نیو جنریشن‘ نامی تنظیم کی رکن نیلم چٹان نے بتایا کہ ہم نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ سکولوں کے اندر اسلحہ لے جانے پر پابندی لگائی جائے لیکن حکومت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔سوات کے مقامی لوگ دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہیں لیکن ا±ن کے خیال میں سکولوں کے اندر اسلحے کی غیر ضروری نمائش بھی دہشت گردی ہی کی ایک قسم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…