بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پختونخوا کے سرکاری سکولوںمیں 10 ارب کے فنڈز میں خورد برد

datetime 8  جون‬‮  2015 |

یاپھرہرضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کواس بات کا پابند بناتے کہ وہ جس اسکول کو جتنی رقم جاری کرچکے ہیں وہ مذکورہ اسکول کے نام سے باقاعدہ محکمہ تعلیم کے ویب سائٹ یا پھر ای ایم آئی ایس ویب سائٹ پر جاری کرتے تاکہ کسی بھی وقت کسی بھی ضلع میں مقامی سطح پر ایم پی اے یاایم این اے یا پھرمجاز افسران کو ہر اسکول کو دی گئی رقم اوراس کے تحت مسائل کوکس حد تک حل کیاگیا کی معلومات حاصل کرسکتے۔اس بارے میں نہ صرف محکمہ تعلیم کے مجاز افسران سے ہر ضلع کی سطح پر جاری کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کی گئیں بلکہ ان سے پوچھا بھی گیا کہ اس خطیر رقم کی مانیٹرنگ کا کیا نظام بنایا گیا ہے مگر کسی بھی مجاز افسر نے ایک ماہ کی مسلسل گزارشات کے باوجود نہ تو تفصیلات فراہم کیں نہ ہی اس پر بات کرنا گوارہ کی البتہ صوبائی وزیر تعلیم کے پرنسپل اسسٹنٹ نے اتنا بتایا کہ صوبائی وزیر نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام ضلعی افسران کو ہدایت کریں کہ ہر اسکول اپنی خرچ کردہ پی ٹی سی فنڈ کی تفصیلی تختی اسکول میں آویزاں کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…